اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 568 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 568

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۵۶۸ خطاب یکم را گست ۱۹۹۸ء صرف یہی نہیں کہ غانا میں مہمان نوازی کے ذریعہ تبلیغ کی خدمات سرانجام دی جارہی ہیں۔لجنہ اماءاللہ نے دینی تعلیم کے لئے با قاعدہ اپنے سکول قائم کر رکھے ہیں۔مختلف علاقوں سے بچیاں آتی ہیں ، ان سے دین سیکھتی ہیں اور پھر واپس اپنے علاقوں میں جا کر عورتوں کو دین سکھاتی ہیں۔جہاں مردوں کے لئے مدارس ہیں وہاں عورتوں کے لئے بھی الگ مدارس قائم ہیں جو لجنہ اماءاللہ غانا نے اپنے طور پر جاری کئے ہوئے ہیں۔ان کی ایک اور قابل تقلید مثال جو یورپ کی جماعتوں کو بھی اپنانی چاہئے وہ یہ ہے کہ وہ تمام عورتیں جو کبھی احمدی ہوا کرتی تھیں وہ ان کی فہرستیں بناتی ہیں ان تک پہنچتی ہیں اور ان کو از سر نو احمدیت میں شامل کرنے کے لئے بہت محنت سے تبلیغ کرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسی احمدی خواتین جو کسی وجہ سے پیچھے ہٹ گئی تھیں دوبارہ کثرت سے احمدیت میں داخل ہورہی ہیں۔وہ عورتیں جو احمدیت میں کمزور دیکھتی ہیں ان کے پاس بھی ان کے وفود پہنچتے ہیں انہیں مختلف ذرائع سے احمدیت میں بھر پور حصہ لینے کی تلقین کرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے بہت اچھے نتائج نکلتے ہیں۔طبی امداد بھی غانا کی احمدی خواتین نے اپنے طور پر جاری کی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے گواس قسم کے کام دوسرے ممالک میں بھی ہورہے ہیں مگر غانا کی یہ مثال خاص طور پر قابل ذکر تھی۔اس لئے میں نے اسے پیش کر دیا بعض اور ممالک کا بھی نسبتاً تفصیل سے ذکر کروں گا۔تبلیغ اسلام میں سب سے مؤثر ذریعہ قرآن کریم کی ترویج اس کی اشاعت، اس کی تعلیم ہے۔اور خدا تعالیٰ کے فضل سے میں لجنہ اماءاللہ سے بہت خوش ہوں کہ یہ دنیا بھر میں اس کام سے غافل نہیں ہیں اور بہت عمدگی کے ساتھ لجنات خواتین کی اور بچوں کی اس پہلو سے خدمت کر رہی ہیں۔پاکستان میں ہندوستان میں ، انگلستان میں، جرمنی میں ، انڈونیشیا ، غانا، مشرق سے مغرب تک، تقریباً تمام افریقی ممالک میں ہر جگہ یہ خدمت سر انجام دی جارہی ہے اور اس سے تبلیغ کو بالواسطہ فائدہ پہنچتا ہے۔اگر چہ اس خدمت کے ساتھ احمدی ہونا شرط نہیں ہے۔میرے لئے ممکن نہیں کہ اس وقت آپ کو تفصیل سے بتاؤں کہ ایسے ممالک مثلاً پاکستان ، ہندوستان اور بنگلہ دیش وغیرہ وہاں یہ خدمت انجام دینا کتنا مشکل کام ہے۔عورتوں کو بڑی حکمت سے کام لینا پڑتا ہے اور اس بات پر نظر رکھنی پڑتی ہے کہ کوئی شریر مولوی اس کام کو روکنے کی خاطر ہماری عورتوں کی بے حرمتی کا موجب نہ بنے۔پس آپ کو بھی یہ نصیحت