اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 541
حضرت خلیفہ اسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۵۴۱ خطاب ۱۶ را گست ۱۹۹۷ء بھی اس محبت کو کس نظر سے دیکھا کرتے تھے۔ایک موقعہ پر حضرت عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی جوتی کو پیوند لگا رہے تھے اور میں چرخہ کات رہی تھی یہ گھر کا نقشہ تھا اپنی جوتی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم خود پیوند لگا رہے تھے۔حضرت عائشہ صدیقہ بیٹھی چرخہ کات رہی تھیں۔کہتی ہیں اچانک میری نظر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیشانی پر پڑی تو اس پیشانی پر پسینے کے قطرے ابھر رہے تھے اور ان پسینوں کے اندر، اس پسینے کے اندر ایسا نور تھا جو ابھرتا چلا آرہا تھا اور بڑھ رہا تھا یہ نظارہ دیکھ کر میں سراپا حیرت بن گئی۔کہ ایک شخص جو جوتی کو درست کر رہا ہے اسے ٹانکے لگا رہا ہے اس کی پیشانی سے نور پھوٹ رہا ہے اور وہ بڑھتا چلا جاتا ہے جیسے گویا کل عالم پر محیط ہو جائے گا۔یہ حیرت انگیز نظارہ دیکھا تو حضرت عائشہ کہتی ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نگاہ مجھ پر پڑی تو فرمایا! عائشہ تم حیران کیوں ہوئی بیٹھی ہو؟ میں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں نے آپ کی پیشانی پر ایسا پسینہ دیکھا ہے کہ اس کے اندر ایک نور چمکتا دمکتا بڑھتا چلا جا رہا ہے خدا کی قسم اگر ابو کبیر بجلی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیکھ پاتا تو اسے معلوم ہو جاتا کہ اس کے اشعار کا مصداق آپ ہی تھے۔آپ نے فرمایا ! اس کے اشعار کیا ہیں۔حضرت عائشہ صدیقہ نے وہ اشعار پڑھ کر سنائے جن کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ ولادت اور رضاعت کی آلودگیوں سے مبرا ہیں اور تو کوئی ایسا نہیں جو ولادت اور رضاعت کی آلودگیوں سے اس طرح مبرا ہو۔جن معنوں میں حضرت عائشہ صدیقہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیکھ رہی تھیں وہ کہتے ہیں ان کے درخشاں چہرے پر نظر کرو تو یوں معلوم ہوگا کہ نہایت روشن اور چمکدار برق اپنا جلوہ دکھا رہی ہے ایک حیرت انگیز روشن بجلی ہے جو چمک رہی ہے اور پیشانی سے پھوٹ رہی ہے۔حضور نے ہاتھ میں جو کچھ تھا انہیں رکھ دیا۔عائشہ کہتی ہیں آپ نے مجھے قریب کیا اور میری پیشانی کو چوما اور فرمایا اے عائشہ ! جو سرور مجھے اس وقت تجھ سے حاصل ہوا ہے اتنا سرور تو تجھے بھی میرے نظارے میں حاصل نہیں ہوا ہو گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو جو حضرت عائشہ کی محبت سرور پہنچاتی تھی وہ ان معنوں میں سرور پہنچایا کرتی تھی۔آپ نے وہ روحانی نظارہ دیکھا کہ آپ کی پیشانی سے نور پھوٹ رہا ہے اسی