اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 491
حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۴۹۱ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء میں اولاد پیدا ہوتی ہے اور خدا نے اولاد کے ذریعے انسان کو باقی رکھنے کے سامان پیدا کئے ہیں۔اس پر آپ غور کریں تو آپ کو اولاد کی محبت کی حقیقت سمجھ آجائے گی۔اولاد سے پیار دراصل اس لئے ہے کہ وہ آپ کا مستقبل ہے۔اولاد سے در حقیقت پیار اس لئے ہوتا ہے کہ جب آپ نہیں ہوں تو وہ آپ کی جگہ ہوتی ہے اور آپ کی ذات کو لے کر آگے بڑھتی ہے۔تو گویا آپ کی ذات کا وہ دوسرا حصہ ہے۔ہزار مائیں یہ کہیں کہ اولاد پہ ہماری جان فدا ہو مگر قرآن کریم فرماتا ہے کہ در حقیقت سب سے زیادہ تمہیں اپنی جان پیاری ہے۔اولاد کی محبت ثانوی ہے اپنی محبت کی وجہ سے محبت ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب قیامت کے دن سزا در پیش ہوگی تو مائیں چاہیں گی کہ اپنے بچے کو جہنم میں جھونک کر خود بچ جائیں۔دودھ پلانے والی اپنے بچوں کے دودھ چھڑا کر گویا کہ ان کو آگ میں جھونکنا زیادہ پسند کریں گی۔بہ نسبت اس کے کہ وہ آگ میں پڑیں۔اس انسانی فطرت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ کہنے کی باتیں ہیں فی الحقیقت اپنا نفس ہی ہے جو پیارا ہے اور نفس کی خاطر انسان بچوں سے پیار کرتا ہے محض اس لئے کہ وہ اُن کے مستقبل کے محافظ ہیں۔اس کے مستقبل کے ضامن ہیں۔وہ اس کو لے کر آگے بڑھیں گے۔اس وقت میں اس بحث کو نہیں چھیڑتا کہ بعض مائیں بچوں پر جان فدا کر بھی دیتی ہیں تو کیوں کرتی ہیں؟ یہ ایک بہت گہر ا مضمون ہے اس کی تفصیل میں اگر میں جاؤں تو جو بات میں چھیٹر بیٹھا ہوں اُس کو اس کے کنارے تک نہیں پہنچا سکوں گا۔لیکن میں اس کی حقیقت کو جانتا ہوں اور میں بتا سکتا ہوں، سمجھا سکتا ہوں کہ یہ جو ماں کی قربانی ہے بچے کے لئے اور جان فدا کر دینا یہ بھی ایک نفس کا دھوکا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انسان سب سے زیادہ اپنے نفس سے محبت کرتا ہے۔اپنے وجود سے محبت کرتا ہے اور جو چیز اس کے وجود کو بقا بخشنے والی ہے اس سے پیار کرتا ہے۔جو چیز اُس کے وجود کو وسعت دینے والی ہے اس سے پیار کرتا ہے۔یہ پیار کی حقیقتیں ہیں ان میں کبھی کوئی تبدیلی آپ نہیں دیکھیں گی۔آپ کو کھانا کیوں اچھا لگتا ہے؟ میٹھا میٹھا کیوں لگتا ہے؟ خوشبو ، خوشبو کیوں لگتی ہے۔اس لئے کہ جب سے آپ کو تخلیق کے مراحل سے گزارا گیا۔جب سے شعور کی پرورش ہوئی اور ارتقاء شروع ہوا۔ہر وہ چیز جو آپ کے بقا کے لئے مفید تھی آپ کو اچھی لگنے لگی اور اچھی پہلے لگی تھی مٹھاس بعد میں پیدا ہوئی ہے۔بُری پہلے لگی تھی کرواہٹ بعد میں پیدا ہوئی ہے۔اور کیونکہ یہ تربیت کا دور کروڑ ہا سال اربوں سال تک پھیلا ہوا ہے۔اس لئے آپ کو احساس نہیں ہوسکتا آپ معلوم نہیں کر سکتیں کہ کیسے مجھے