اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 490
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۴۹۰ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء کائنات پر پھیلا پڑا ہے۔پس غیب پر ایمان لاؤ تو پھر اللہ پر ایمان کی حقیقت دل پر روشن ہوگی۔اس پہلو سے آپ کو زمانوں کی طرف جو گزرے ہوئے زمانے ہیں اور ان زمانوں کی طرف بھی جو آنے والے زمانے ہیں خدا دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر تم مجھے پہچاننا چاہتے ہو تو یاد کرو کہ تم بے حقیقت ہو۔تمہارے عدم کے ساتھ اس کائنات کا کوئی تعلق نہیں۔تمہارے وجود کے ساتھ اس کا ئنات کا کوئی تعلق نہیں۔تم تو ایک ذرہ بے حقیقت کی طرح آئے اور گزر گئے۔لیکن یہ کائنات جو تمہاری نظر سے غائب تھی اور غائب ہو جائے گی پھر بھی رہے گی۔پس اس غیب پر یقین کرو کہ تم پر کوئی بنا نہیں ہے۔تمہارے بغیر کا ئنات قائم ہے اور تمہارے بغیر کائنات باقی رہے گی اور اس کو باقی رکھنے والا خدا ہے جس پر تمہیں ایمان لانا لازم ہے کیونکہ اگر اس پر ایمان نہیں لائے تو پھر ساری کائنات ہی کالعدم ہو جانی چاہئے۔پر يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کا جو مضمون ہے یہ ہمیں ایمان کی حقیقت سکھاتا ہے اور جوں جوں آپ غیب پر غور کرتی چلی جائیں اللہ تعالیٰ کا تصور آپ کے دل میں عظیم تر ہو کر ابھرے گا اور ایمان کے ساتھ ہر محبت کا ایک تعلق ہے جو غور کے بعد ظاہر ہوا کرتا ہے اُس سے پہلے نہیں ہوتا۔اب ایک اور پہلو سے میں اسی مضمون کو کھولنے کی کوشش کرتا ہوں۔کیونکہ جیسا کہ میں عرض کیا ہے کہ مضمون بہت ہی گہرا ہے، باریک ہے ،لطیف ہے اور بسا اوقات چونکہ انسان ان باتوں پر غور نہیں کرتے۔اس لئے نئے سرے سے انہیں پڑھانا ایک مشکل کام ہے۔لیکن اس مشکل کو بہر حال ادا کرنا ہے۔کیونکہ یہ ہماری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔غیب کو سمجھنے کے بعد اب آپکو یہ غور کرنا ہوگا کہ اگر آپ کے دل میں ہمیشگی کی تمنا ہے، اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ ہمیشہ کے لئے ہوں تو یہ کیسے حاصل ہو سکتا ہے۔جب تک اس ذات سے تعلق قائم نہ ہو جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی کسی انسان کو ہمیشگی نصیب نہیں ہو سکتی اور ہمیشگی سے انسان کو ایسی محبت ہے کہ جب وہ اپنی ذات سے پیار کرتا ہے تو دراصل ہمیشگی سے پیار کر رہا ہے اور اس نقطے کو وہ سمجھتا ہی نہیں ہے کہ میں کیوں پیار کر رہا ہوں۔ایک انسان اپنی عمر بڑھانے کی جو کوشش کرتا ہے۔تو یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ عمر جو جبتک رہی ہے میں موجود کا احساس رکھتی ہوں اور میرے ہونے کا احساس، میرے وجود کا احساس اور کائنات کو دیکھنے کا احساس اور شعور کا احساس، ہر قسم کے جو شعور انسان کو نصیب ہوئے ہیں یہ زندگی کی سب سے بڑی لذت ہے۔جب انسان مٹ جائے تو پھر بھی باقی رہنا چاہتا ہے اور اس باقی رہنے کی خواہش کے نتیجے