اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 42 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 42

حضرت خلیفہ مسح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۲ خطاب ۲۶ ؍جولائی ۱۹۸۶ء اور تہذیب کے نام پر ہر قسم کی ہوا اور ہوس کو جائز سمجھنا اور رواج دینا اور اس پر فخر کرنا یہ تمام باتیں آج کے دور کی تہذیب نے نئی آپ کو نہیں دیں، بلکہ یہ ساری وہ باتیں ہیں جن سے اسلام نے عورت کو نجات بخشی تھی۔اس لئے آزادی کے نام پر جب آپ کو ان چیزوں کی طرف بلایا جاتا ہے تو یہ کہنا غلط ہے کہ نئی باتیں ہیں، جس سے پہلے عورت آشنا نہیں تھی بلکہ حقیقت یہ ہے، کہ پرانی تہذ یہیں، جتنی بھی تھیں، خواہ وہ اسلام سے پہلے کی ہوں ، روم کی تہذیب ہو یا گریس یعنی یونان کی تہذیب ہو یا قدیم ہندو تہذیب ہو، تمام پرانی اُس زمانے کی تہذیبیں، جو تاریکی کا زمانہ کہلاتا ہے ، عورت کو اُسی طرح استعمال کرتی تھیں جس طرح آج یورپ میں استعمال کیا جا رہا ہے۔یہ تو وہ پس منظر ہے جس میں اسلام نے عورت کوان تمام خرابیوں سے نجات بخشی اور تمام حقوق جو عورت سے چھینے جاچکے تھے ان کو قائم فرمایا۔اور بہت کچھ وہ بھی دیا ، جن کا اُس تہذیب سے براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا، بلکہ ایک عالمی دین کے طور پر عورت کے ایک منصب کو قائم فرمایا ، اس منصب کی حفاظت کی اور اس تفصیل سے عورت کے حقوق کی تعلیم دی که انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ چودہ سو سال قبل، یہ کیسے ممکن ہوا۔خصوصاً ایک بات بہت ہی قابل توجہ ہے جسے آج کا انسان فراموش کر دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ تمام انسانی تہذیب میں اور جب میں یہ کہتا ہوں تو تمام انسانی تہذیب پر اُس کی تاریخ پر نظر ڈال کر یہ بات کہتا ہوں۔تمام انسانی تہذیب میں صرف ایک مرد ہے جس نے عورت کی آزادی کی تحریک چلائی اور عورت کو اُس کے حقوق دیئے وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ ہیں۔باقی تمام تحریکات جو عورت کی آزادی کے نام پر چلائی گئی ہیں، وہ تمام عورتوں کی طرف سے چلائی گئی ہیں۔آج تک ، ساری کائنات میں ، ایک بھی مرد نہیں ہمارے آقاو الله مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے سواء کہ جن کے دست کرم سے عورت کو فیض نصیب ہوا ہو۔آج بھی یورپ میں یا امریکہ میں یا مشرق میں جتنی عورت کی آزادی کی تحریکات ہیں ان کی سربراہ عورتیں ہیں۔عورتیں ہی اس کو منظم کر رہی ہیں۔کس حد تک وہ اس میں کامیاب ہیں، کس حد تک ان کے فکر و نظر کے نتائج عورت کیلئے مفید ثابت ہوں گے یا مہلک ثابت ہوں گے۔یہ الگ مضمون ہے جس کا بعد میں ذکر آئے گا۔دوسری بات جو مسلمان عورت تمام دنیا کے سامنے چیلنج کے طور پر پیش کر سکتی ہے وہ یہ ہے کہ تمام ادیان میں، بلا استثناء، اسلام کے سوا ایک بھی ایسا مذہب نہیں جس نے عورت کو اپنے ماضی کے ظلموں سے نجات بخشی ہوا اور تہذیب جو عورت نے اس زمانہ میں ورثہ میں پائی تھی اس کے خلاف علم بلند