اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 351
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۵۱ خطاب ار ستمبر ۱۹۹۳ء بد زبانی شروع کردی۔روزانہ فجر کی نماز کے بعد گالیاں دیتا تھا اور خط کا حوالہ بھی دیا کرتا تھا اور کہتا تھا دیکھو مجھے ابتر ہونے سے ڈرایا جا رہا ہے۔آخر اللہ تعالیٰ کی غیرت نے جوش مارا۔چند ماہ نہ گزرے تھے کہ اس کا اکلوتا بیٹا معمولی سی بیماری سے اس دنیا سے کوچ کر گیا اور یہ مخالف ابتر ہوکر ہمیشہ کے لئے عبرت کا نشان بن گیا ہے۔سلمی فیض صاحبہ جو میری دودھ کی بہن ہیں۔ہم سب نے بہنوں نے اور میں نے ان کی والدہ کا دودھ پیا ہوا ہے کیونکہ ہر دفعہ ان کے ہاں بھی کوئی بچہ ایسا ہوا کرتا تھا کہ ہم اس وقت ان کا دودھ پی سکتے تھے۔میری والدہ کے دودھ کم اتر کر تا تھا پس ان کی وجہ سے ہمیں یہ توفیق مل جاتی تھی کیونکہ ان کو دودھ زیادہ اترا کرتا تھا تو دونوں بچے اس طرح پل جاتے تھے۔تو سلمی فیض صاحب لکھتی ہیں کہ ستمبر ۱۹۷۴ء میرے میاں چونیاں ضلع قصور میں گورنمنٹ ہائی سکول میں ہیڈ ماسٹر تھے۔موسم گرما کی تعطیلات گزارنے کے بعد انہوں نے وہاں جانا ضروری سمجھا۔میں اور میرا سب سے چھوٹا بیٹا ساتھ تھے۔پتوکی اور چونیاں کے درمیان محکمہ انہار کے سرکاری بنگلے میں ہمارے ایک احمدی دوست محمد یحیی رہائش پذیر تھے۔یہ عبدالرحمن صاحب قادیانی جن کو عبد الرحمن جٹ کہا جاتا تھا ان کے بھتیجے تھے کہتی ہیں کہ اُسی رات تہجد کی نماز میں نیم بیداری کی حالت میں ایک آواز سنائی دی جیسے کوئی کہہ رہا ہو کفار مکہ کا نظارہ میں گھبرا گئی اور یہ رویا یہ تجربہ بیان کیا تو مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ نے فرمایا کہ چونیاں نہ جائیں کیونکہ یہ اسی سلسلہ میں انذار ہے لیکن چونکہ ہم وہاں جانے کا پروگرام بنا چکے تھے اس لئے انہوں نے زیادہ اصرار نہ کیا۔البتہ ایک دُعا بتائی کہ بکثرت یہ دُعا پڑھتے ہوئے جائیں۔ہم چونیاں اپنے مکان میں پہنچ گئے۔ابھی بمشکل ایک گھنٹہ ہی گذرا ہوگا کہ سینکڑوں لوگوں کا ہجوم آ گیا اور مکان کو گھیرے میں لے لیا۔دو تین لڑکے اندر گھس آئے اور میرے میاں کے ساتھ بدسلوکی کی اور الجھ پڑے عین اس وقت پولیس کو ہمارے مکان پر حملے کی خبر مل گئی انہوں نے لوگوں کو مکان سے باہر نکال دیا لیکن ہجوم بے قابو ہورہا تھا پولیس نے حفاظت کی غرض سے ہمیں ہوٹل کے ایک کمرے میں بند کر دیا۔جو ہمارے مکان سے ملحق تھا۔ہجوم پتھر اندر پھینک رہا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہماری حفاظت فرمائی۔پھر بمشکل ہمیں ہجوم میں سے گزار کر قریبی مکانوں میں پناہ دینی پڑی۔راستہ میں وقفے وقفے سے پتھروں کی بارش ہوتی رہی اور ان میں سے بعض پتھر میرے میاں کو لگے۔کچھ عرصہ کے بعد ہجوم منتشر ہو گیا تو ہمیں پولیس اپنی گاڑی میں کرنل احمد خاں صاحب آف ٹوپی کے بنگلے میں چھوڑ گئی ان کے عزیز واقارب بھی