اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 345
حضرت خلیہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۴۵ خطاب الرستمبر ۱۹۹۳ء یہ خیالات کی خوا ہیں نہیں تھیں بلکہ حقیقتا اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھیں اور پھر بعض اوقات پہ رویا ایسی زبان میں عطا ہوتی ہیں جن کی زبان وہ خواتین دیکھنے والی مائیں بھی نہیں سمجھتیں۔جب وہ مجھے لھتی ہیں تو ان کی تعبیران کو بھیجتا ہوں اور وہ حیرت انگیز طور پر پوری ہوتی ہے مثلا کسی خاتون نے ایک ایسی رؤیا دیکھی جس سے پتہ چلتا تھا کہ اس کے چار بیٹے ہوں گے اور تعبیر کے بعد اس پر یہ ظاہر ہوا کہ کیا مراد ہے۔تو بعینہ ویسا ہی ہوا۔بہت کثرت سے ایسے نمونے ملتے ہیں۔میرے پاس چونکہ وقت نہیں تھا کہ میں خود چھان بین کرتا مگر دفتر نے کچھ نمونے چن کر میرے سامنے رکھے ہیں۔وہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہے۔حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے بعد چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی یہ گواہی ہے کہ میری بیٹی امتہ الئی کے پیدا ہونے سے چند گھنٹے قبل والدہ صاحبہ نے میری بیوی سے کہا کہ لڑکی پیدا ہوگی۔کیونکہ میں نے ابھی غنودگی کی حالت میں دیکھا کہ مکان میں بہت چہل پہل ہے اور لوگ کہتے ہیں۔بی بی آئی ہے، بہت خوبصورت۔اب وہ بی بی کہلاتی ہے۔میں نے کئی دفعہ چوہدری حمید نصر اللہ صاحب سے بھی ان کے ذکر میں بی بی کا لفظ سنا ہے۔اب مجھے سمجھ آئی کہ کیوں بی بی کہتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ نے رویا میں پہلے ہی ان کو بی بی کے نام سے یاد فرمایا تھا۔بادشاہ بیگم صاحبہ اہلیہ غلام محمد صاحب بیڈن روڈ کے متعلق ان کے میاں غلام محمد صاحب کی گواہی ہے۔وہ لکھتے ہیں ۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفتہ اسی الاول کی وفات حسرت آیات کے بعد خاکسار لا ہوری جماعت میں شامل ہو گیا تھا۔مولوی صاحب کی وفات کے چار پانچ دن بعد میری اہلیہ کو خواب آئی کہ تیرے گھر لڑکا پیدا ہوگا تم میاں کی بیعت کر لو۔حضرت مصلح موعود کو بچپن میں میاں کہا کرتے تھے اور چونکہ یہ لا ہوری احمدی تھے۔بیعت نہیں کی تھی اس لئے وہی نام رویا میں دکھایا گیا کہ میاں کی بیعت کرلو۔کہتے ہیں میری بیوی نے مجھے خواب سنائی۔اس کے بعد ۱۹۱۵ ء یا جنوری ۱۹۱۶ء میں میرا لڑکا عبدالرحیم عین خواب کے مطابق پیدا ہوا۔لڑکے کے پیدا ہونے کے بعد میری بیوی نے مجھے مجبور کیا کہ مجھے تو خواب میں خدا تعالیٰ نے میاں کی بیعت کی ہدایت فرمائی ہے۔اس لئے میری بیعت کا خط لکھ دو۔چنانچہ میں وہ خط لکھ دیا۔کہتے ہیں اس کے بعد ڈاکٹر سیدمحمد حسین شاہ صاحب جو لا ہوری جماعت کے سرکردہ ممبر تھے اور شیخ رحمت اللہ صاحب بھی، یہ بہت سٹپٹائے اور میرے پاس آئے اور یہ خو لا ہوری جماعت ہی میں رہے بیگم نے رڈیا کے مطابق بیعت کر لی مگر ان کو تو فیق نہیں ملی۔تو کہتے ہیں مجھ سے شکوہ کیا کہ تم نے یہ کیا حرکت کی ہے ان کی تائید میں ایک خط الفضل میں چھپ گیا ہے تو کہتے ہیں میں