اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 272 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 272

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۷۲ خطاب کیکم اگست ۱۹۹۲ء بھیجا ہے تو ان کی تنخواہ ایک سو روپیہ ماہوار تھی۔چندہ اور دوسری کٹوتیوں کے بعد انہیں ساٹھ روپے ماہوار ملتے تھے۔۔۔اس سے اندازہ کریں کہ اس زمانہ کے واقفین چندہ میں کتنا حوصلہ دکھایا کرتے تھے۔کتنے وسیع قلب کے ساتھ چندہ دیا کرتے تھے۔جس میں سے بڑا حصہ وہ اپنی والدہ کو بھیج دیتے تھے۔ان کی دو بیویاں تھیں۔ان میں سے ہر ایک کے چار، چار، پانچ ، پانچ بچے تھے۔وہ ہمارے مکان کے ہی ایک حصہ میں جو کچا تھا جس میں آج کل کے کلرک بھی رہنا پسند نہیں کرتے ، رہتی تھیں۔مجھے یاد ہے، مجھے یہ معلوم کر کے سخت صدمہ ہوا کہ ان کی بیویوں کے حصے میں چار چار، پانچ پانچ ، بچوں سمیت صرف ۱۴۱۴ روپے ماہوار آتے تھے۔ان کی ایک بیوی کا بھائی جلد ساز تھا جس کے پاس فرمہ شکنی کے لئے جب کوئی کتاب آتی تو اس میں سے فرمے منگوالیتیں اور وہ خود اور دوسری بیوی فرمے تو ڑ تو ڑ کر کچھ رقم پیدا کر لیا کرتی تھیں جس سے ان کا گزارہ ہوتا تھا۔حضرت فضل عمر نے ۱۹۵۶ء میں لجنہ کے اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ہمارے کئی مبلغ ایسے ہیں جو دس دس پندرہ پندرہ سال تک بیرونی ممالک میں فریضہ دعوت الی اللہ ادا کرتے رہے اور وہ اپنی نئی بیا ہی ہوئی بیویوں کو چھوڑ گئے۔ان عورتوں کے بال اب سفید ہو چکے ہیں لیکن انہوں نے اپنے خاوندوں کو کبھی یہ طعنہ نہیں دیا کہ وہ ہمیں شادی کے معا بعد چھوڑ کر لمبے عرصے کے لئے باہر چلے گئے تھے۔ہمارے ایک مبلغ مولوی جلال الدین صاحب شمس ہیں وہ شادی کے تھوڑا عرصہ بعد ہی یورپ تبلیغ کے لئے چلے گئے تھے۔ان کے واقعات سن کر بھی انسان کو رقت آجاتی ہے۔ایک دن ان کا بیٹا گھر آیا اور اپنی والدہ سے کہنے لگا۔امی! ابا کسے کہتے ہیں۔ہمیں پتہ نہیں کہ ہمارا ابا کہاں گیا ہے۔کیوں کہ وہ بچے بھی تین تین چار چار سال کے تھے کہ شمس صاحب یورپ دعوت الی اللہ کے لئے چلے گئے۔اور جب وہ واپس آئے تو وہ بچے ۱۷،۱۷۔۱۸، ۱۸ سال کے ہو چکے تھے۔اب دیکھو یہ ان کی بیوی کی ہمت تھی اور اس بیوی کی ہمت ہی کا نتیجہ تھا کہ وہ ایک لمبے عرصہ تک دعوت الی اللہ کا کام کرتے رہے۔اگر وہ انہیں اپنی درد بھری کہانیاں لکھتی رہتیں تو وہ یا تو خود بھاگ آتے یا سلسلے کو مجبور کرتے کہ انہیں بلالیا جائے۔یہ بالکل درست تجزیہ ہے۔وہ عورتیں جو اپنے خاوندوں کو در دبھری کہانیاں لکھتی رہتیں ہیں۔اگر ان کے خاوندوں میں انسانیت ہو تو اتناز بردست دباؤ ان پر پڑ جاتا ہے کہ پھر وہ اس کام کو جاری نہیں رکھ سکتے۔تو وہ تمام مبلغین جنہوں نے سابقہ ایک سو سال میں عظیم خدمتیں سرانجام دیں ہیں ان کے پیچھے بے شمار ان لکھی داستانیں ہیں جو ان کی بیویوں کی قربانیوں کی