اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 271 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 271

حضرت خلیفتہ مسح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۲۷۱ خطاب یکم اگست ۱۹۹۲ء بال سفید ہو چکے تھے اور ان کے بچے جوان ہو چکے تھے۔شیخ محمود احمد صاحب عرفانی ایڈیٹر الحکم قادیان اپنی اسی کتاب میں لکھتے ہیں کہ میری دوسری ہمشیرہ حمیدہ خاتون عرفانی اہلیہ مولوی مطیع الرحمن صاحب بنگالی مبلغ امریکہ سخت بیمار تھیں اور مرض کے شدید دورے ہوتے تھے جن کی وجہ سے وہ ہر وقت موت کے قریب ہوتی جاتی تھیں۔درداس شدت سے اٹھتی کہ چینیں دور دور تک سنائی دیتی تھیں۔اس حالت میں مولوی صاحب کو امریکہ جانے کا حکم ہوا۔مولوی صاحب نے اپنی اہلیہ کی شدید تکلیف کی حالت کو دیکھ کر کہا ! حمیدہ ! اگر تم کہو تو میں حضرت صاحب کو کہہ کر اپنے سفر کو منسوخ کرالوں۔مگر بستر مرگ پر لیتی ہوئی حمیدہ خاتون نے کہا۔نہیں نہیں۔آپ جائیں اور مجھے خدا کے حوالے کر دیں۔خدمت سلسلہ کے اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔چنانچہ مولوی صاحب موصوف امریکہ کے سفر میں ابھی لندن ہی پہنچے تھے کہ حمیدہ بیگم جان جان آفریں کے سپر د کر کے جنت کو سدھاریں۔حضرت مولوی نذیر احمد صاحب مبشر سیالکوٹی خدا کے فضل سے زندہ ہیں لیکن بہت کمزور ہو چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو صحت وعافیت کے ساتھ خوشیوں سے معمور زندگی عطا فرمائے۔ان کے متعلق اسی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ مکرم مولوی نذیر احمد صاحب مبشر نکاح کے بعد رخصتانہ سے قبل ہی افریقہ چلے گئے تھے۔یعنی اس زمانے میں مبلغین کی بھی اتنی کمی تھی اور دنیا میں مختلف جگہوں پر ایسے تقاضے پیدا ہو رہے تھے کہ حضرت فضل عمر جو بہت حلیم دل رکھتے تھے۔ان کے متعلق فرمایا گیا کہ دل کا حلیم ہو گا لیکن دینی تقاضوں کو ترجیح دیتے ہوئے اتنا بھی انتظار نہیں کر سکتے تھے کہ جس کا نکاح ہو چکا ہے اس کو شادی کی ہی اجازت دے دیں۔رخصتانے ہی کا انتظار کر لیں۔چنانچہ ادھر نکاح ہوا اور ادھر افریقہ میں ضرورت پڑی تو آپ کو افریقہ بھجوادیا گیا۔پھر جنگ کی وجہ سے واپس نہ ہو سکے۔وہ لکھتے ہیں کہ اب ان کو ۸ ۹ سال کے قریب ہو گئے ہیں اور ابھی عزیزہ موصوفہ کا رخصتا نہ نہیں ہوا۔مجھے یاد نہیں کہ کتنی مدت کے بعد آئے تھے لیکن جب آئے تھے تو وہ کنواری دلہن بوڑھی ہو چکی تھی۔اور اس عمر میں داخل ہو چکی تھی جس کے بعد بڑھاپے کے انتظار کے چند سال ہی رہ جایا کرتے ہیں۔اکثر وقت انہوں نے تنہائی اور جدائی میں کاٹا۔حضرت مولانا عبدالرحیم درد صاحب کی بیویوں نے جو قربانیاں پیش کی ہیں۔ان کا ذکر خود حضرت مصلح موعود فضل عمران الفاظ میں فرماتے ہیں۔مجھے یاد ہے جب ہم نے دردصاحب کو ولایت