اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 261 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 261

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۶۱ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۹۱ء حضرت مصلح موعود نے یوں فرمایا کہ ایک صحابی کی مہمان نوازی کچھ اس انداز کی تھی کہ آسمان پر خدا بھی چائے لینے لگا۔یعنی اچھا مزیدار کھانا کھاتے ہوئے جس طرح انسان بعض دفعہ مزے سے، بے تکلفی سے منہ سے مچا کے مارتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ عرش پر اپنے اس پیارے کی مہمان نوازی کے نظارے دیکھ کر مچا کے لینے لگا ( صحیح بخاری۔کتاب المناقب باب ويؤثــرون على انفسهم ولو كان بهم خصاصة ) تو ان معنوں میں میں یقین رکھتا ہوں کہ ان بظاہر چھوٹی چھوٹی قربانیوں کو خدا تعالیٰ نے لازماً چوما ہو گا اور پیار کیا ہو گا اور یہی پیار ہے جو آئندہ ان بچیوں کے نصیب جگائے گا۔ان کے گھروں کو جنت ہی میں تبدیل نہیں کرے گا بلکہ جنت عطا کرنے والے گھر بنادے گا۔پس یہ دوسرا پہلو ہے اس جنت کا جو آپ کے پاؤں تلے، اور آپ کے پاؤں سے وابستہ ہو چکی ہے۔منفی پہلو سے حفاظت ہی مقصد نہیں بچوں کو چوگا ڈالنا بھی تو ضروری ہے اور پرندوں میں میں نے یہ دیکھا ہے کہ جب بچے چھوٹے ہوں تو وہ کمزور ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔بعض پرندے ایسے ہیں جن میں ان کی مائیں بھی اور نر بھی دونوں سارا دن چگ چگ کر اپنے بچوں کی چونچ میں ڈالتے چلے جاتے ہیں خود کمزور ہور ہے ہوتے ہیں لیکن ان کی خاطر قربانی کرتے چلے جاتے ہیں۔پس روحانی رزق کے چوگے ہیں جو آپ نے اپنے بچوں کے منہ میں بچپن ہی سے ڈالنے ہیں۔یہ قربانی کی ادائیں اگر آپ بچپن میں ان کو سکھا دیں تو مرتے دم تک ان کو قربانی کی لذتوں کی ایسی عادت پڑ جائے گی کہ اس سے وہ چاہیں بھی تو چھٹ نہیں سکیں گے۔جہاں تک تبلیغ کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہندوستان کی خواتین بڑی مستعدی کے ساتھ تبلیغ میں مصروف ہو چکی ہیں اور اس وقت تک ۱۸۳ ایسی داعیات الی اللہ ہیں جنہوں نے اپنے عہدوں کو پورا کیا ہے اور واقعہ تبلیغ کے کاموں میں مصروف ہو چکی ہیں۔ان کو خدا تعالیٰ جس قسم کے پھل عطاء کر رہا ہے اس سلسلہ میں ایک نمونہ کو دیکھ کر میری روح وجد میں آگئی۔بنگال کے ایک گاؤں کانگولی بنگہ میں ایک بیوہ خاتون نے بیعت کی اور احمدی دعوت کرنے والیوں کی وجہ سے اس تک پیغام پہنچایا شاید کسی مبلغ کے ذریعہ پہنچا ہو گا لیکن وہ آئندہ تبلیغ کا مرکز بن گئیں۔اس خاتون کی تبلیغ سے مزید تین (۳) عورتوں نے بیعت کرلی جس کے نتیجہ میں گاؤں کے بعض مردوں اور مولویوں نے شدید مخالفت شروع کر دی یہاں تک کہ ان تینوں مستورات کے خاوندوں نے ان کو یہ دھمکی دی کہ ہم تمہیں طلاق دے کر گھروں سے نکال دیں گے اور ہمارا ہمیشہ کے لئے تم سے تعلق منقطع ہو جائے گا۔