اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 262
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۶۲ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۹۱ء انہوں نے کہا طلاق دینا کیا چیز ہے تم اگر ہمارے سر بھی تن سے جُدا کر دو تو امام مہدی سے ہم تعلق نہیں توڑیں گی اور جوز ور لگتا ہے لگاؤ ہم لا ز ما تبلیغ کریں گی اور اس ٹو رکو آگے پھیلاتی چلی جائیں گی۔چنانچہ خدا کے فضل کے ساتھ ایک تھوڑے سے عرصے میں ان تین عورتوں نے مل کر ۳۰ سے زیادہ گھروں کو احمدیت سے وابستہ کر دیا ( نعرے۔خواتین کے پُر جوش نعرہ ہائے تکبیر کے بعد حضور نے فرمایا : ہاں میں یہ بتارہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی خواتین میں استطاعت ہے۔اگر وہ چاہیں تو عظیم انقلاب رونما کر سکتی ہیں۔آپ کیا سمجھتی ہیں۔آپ گھروں میں بٹھائے رکھنے والی عورتیں ہیں۔آپ کو جب میدانِ جہاد اپنی طرف بلا رہا ہو تو کوئی دنیا کا مولوی اگر اس کے خلاف فتوی دے تو اس کے منہ پر آپ تھوکیں بھی نہیں۔اس کی قطعاً پر واہ نہ کریں۔احمدی خواتین کو بیکار کرنے کیلئے قرآن کریم میں کہیں کوئی تعلیم نہیں۔احمدی خواتین سے، یعنی مسلمان خواتین سے اللہ تعالیٰ ہر صحتمند میدان میں مردوں سے آگے بڑھنے کے مقابلہ کرنے کی توقع رکھتا ہے۔کیونکہ مسلمانوں کو برابر یہ طمع نظر عطا کیا گیا کہ: وَلِكُلِّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلَّيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرُتِ (البقره: ۱۴۹) اب دیکھئے! آپ ذرا غور تو کریں یہاں یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے مردوں کے لئے ایک مطمع نظر مقرر فرمایا ہے۔لفظ اتنے خوبصورت استعمال کئے ہیں جو ہر شخص پر برابر چسپاں ہوتے ہیں فرمایا : لِكُلّ وجَهَةً ہر شخص کے لئے ہم نے ایک مطمع نظر رکھ دیا ہے۔ہر قوم کے لئے ایک مقصود بنارکھا ہے۔اور اے محمد مصطفی ﷺ کے غلامو! تمہارے لئے مقصود یہ ہے کہ تم نے ہر حال میں ایک دوسرے سے نیکیوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہے۔پس اگر آپ اُن محل میں داخل ہیں اور یقیناً اس محل میں داخل ہیں تو ہر نیکی کے میدان میں مردوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا خدا کی طرف سے بطور فریضہ آپ پر عائد کر دیا گیا ہے۔پس اگر تبلیغ کے میدان میں مرد پیچھے رہ رہے ہیں تو ان کو پیچھے چھوڑ دیں اور آپ نکلیں اور آپ اس ملک میں اسلام اور احمدیت کا سچا نور پھیلانے کی ذمہ داری اپنی ذات کے لئے قبول کرلیں۔میں نے یہاں اس سے پہلے ایک خطاب میں یہاں عورتوں کو تاریخ اسلام کی ایک درخشندہ مثال بتائی تھی وہ آپ کو بھی بتاؤں گا اور اس کے بعد پھر آپ سے اجازت چاہوں گا۔ایک ایسا موقع آیا تھا جب کہ میدانِ جنگ سے مسلمان مجاہدین کے پاؤں اکھڑ گئے۔بعض دفعہ ایسا مجبوری کی حالت میں بھی