اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 22
حضرت خلیفہ امسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۲ خطاب ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۳ء حضرت عروہ کی اپنے والد سے ایک روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ : میں نے عائشہ سے دریافت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھر پر کیا کرتے رہتے ہیں۔آپ نے جواب میں فرمایا اپنے کپڑے بھی سی لیتے ہیں، جوتے بھی مرمت کر لیتے ہیں، ہر وہ کام کرتے ہیں جو لوگ گھر پر کیا کرتے ہیں۔“ ( مسنداحمد بن حنبل جلد ۶ ص ۱۲۱) اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ کنویں کا ڈول تک بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود مرمت کرتے اور سیتے ہیں۔پھر حضرت عائشہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے آدمیوں کی طرح ایک بشر تھے اپنے کپڑے خو دسی لیتے تھے، بکری کا دودھ دوہتے تھے اور اپنے سارے کام خود کیا کرتے تھے۔پھر حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بھی زیادہ خوش خلق نہیں تھا، گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتے تھے اور باہر سے جب کسی بلانے والے کی آواز آتی تھی تو آپ لبیک کہہ کر دروازے کی طرف جایا کرتے تھے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دستور تھا کہ رات کو جب خدا کی عبادت کے لئے اُٹھتے تھے تو اپنے اہل و عیال کو بھی جگایا کرتے تھے خصوصا رمضان شریف میں۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ کمر ہمت کس لیتے تھے اور رات کا بیشتر حصہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم عبادت میں صرف فرماتے اور اپنی بیویوں اور بچوں اور عزیزوں کو بھی بار بار جگاتے اور تاکید فرماتے اور بڑے صبر کے ساتھ اس نصیحت پر قائم رہتے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ کا واقعہ ہے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جوتی کو پیوند لگا رہے تھے اور میں چرخہ کات رہی تھی میں نے دیکھا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک پر پسینہ آرہا تھا اور اس پسینہ کے اندر ایک نور چمک رہا تھا جو اُبھرتا جاتا تھا اور بڑھتا جاتا تھا یہ ایک ایسا نظارہ تھا کہ میں سراپا حیرت بن گئی۔حضور مبارک کی نظر جب مجھ پر پڑی تو فرمایا عائشہ تو حیران سی کیوں ہے؟ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر پسینہ ہے اور پسینے کے اندر ایک چمکتا ہوا نور ہے۔اس پاک نظارے نے مجھے سرا پا چشم حیرت کر دیا۔با خدا اگرا بوقبیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ پاتا تو اسے معلوم ہو جاتا کہ اُس کے شعر کا صحیح مصداق تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ وہ شعر کیا ہے۔