اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 23
حضرت خلیفہ امسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۳ حضرت عائشہ کہتی ہیں میں نے وہ شعر پڑھا جو یہ تھا۔خطاب ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۳ء وَمُبَرَّءٍ مِّنْ كُلِّ عُبْرِ حِيْضَةٍ وَفَسَادِ مُرضِعَةٍ وَدَاءٍ مُغِيلٍ وَإِذَا نَظَرُتِ إِلَى أَسِرَّةِ وَجُهِهِ بَرِقَتْ كَبَرُقِ الْعَارِضِ الْمُتَهَدِّلِ ( تہذیب الکمال جز ۲۸۶ صفحه ۳۱۹) (حلیۃ الاولیاء جزء ۲ صفحه ۴۶) حضرت عائشہ نے جو شعر پڑھا اس کا ترجمہ یہ ہے۔کہ وہ شخص ولادت اور رضاعت کی آلودگیوں سے پاک تھا اور اس کے درخشندہ چہرے کی شکنوں پر نظر کرو تو معلوم ہوگا کہ نورانی اور کھل کر چمکنے والی روشن تر بجلی سے بھی بڑھ کر وہ روشن ہے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت عائشہ صدیقہ کے منہ سے یہ شعر سنا تو آپ فرماتی ہیں کہ جو کچھ آپ کے ہاتھ میں تھا وہ رکھ دیا میری پیشانی پر بوسہ دیا اور فرمایا: مَاسُرِرُتِ كَسَرُو رِی مِنْكِ 66 " تو مجھ سے اتنا خوش نہیں ہوئی جتنا میں تجھ سے خوش ہوا ہوں۔“ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مختلف ادوار آئے۔ایسے وقت بھی تھے کہ مہینہ مہینہ گھر میں چولہے میں آگ نہیں جلتی تھی۔جو صحابہ پر گزرتی تھی وہی آپ کے گھر پر بھی گزرتی تھی اگر باہر فاقے پڑ رہے ہوتے تھے۔تو آپ کے گھر میں بھی فاقے پڑ رہے ہوتے تھے، جب باہر سہولت ہو جاتی تھی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی نسبت سے گھر میں بھی سہولت دے دیا کرتے تھے اور ایک روایت کے مطابق جب خدا تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی تو آپ کا یہ دستور تھا کہ تقریباً ۳۷۵ من کھجور اور ۷۵ من کو یہ سالانہ وظیفہ اپنے ہر گھر میں دیا کرتے تھے۔اس زمانے میں چونکہ یہ جو اور کھجور وغیرہ بدلا کر باقی چیزیں بھی لی جاتی تھیں اس لئے ایک گھر کے کھانے سے تو بہت زیادہ ہے یہ۔مگر چونکہ اس سے زندگی کی ساری ضرورتیں پوری کرنی ہوتی تھیں اس لئے درمیانہ سا گزارا ہے۔لیکن اس شفقت اور اس گزارے کے باوجو دایک وقت ایسا آیا کہ بعض خواتین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مطالبے شروع کئے۔انہوں نے کہا کہ ہماری ضرورت پوری نہیں ہو رہی ہمیں کچھ زیادہ دیجئے۔اس موقع پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو جو صدمہ پہنچا اس پر نظر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا