اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 239
حضرت خلیفہ المسح الرابع ” کے مستورات سے خطابات ۲۳۹ خطاب ۳۱ راگست ۱۹۹۱ء یہ جو دو واقعات ہوئے ہیں اس کے بعد میں نے فوری قطعی فیصلہ کیا کہ آئندہ یہ صدر لجنہ نہیں رہیں گی اور جب تک ان کے اندران دو پہلوؤں سے نمایاں تبدیلی پیدا نہیں ہوتی اول یہ کہ نصیحت میں اپنے آپ کو مجروح کریں دوسروں کو نہ کریں۔دوسرے یہ کہ خدا کی خاطر اس مقام پر بات کرنے سے رک جائیں جہاں ان کو دخل نہیں ہے وہاں معاملہ خدا اور خدا کے دین پر چھوڑ دیں۔اور ایسی جگہوں میں دخل اندازی سے گریز کریں جہاں خدا ان کو اجازت نہیں دیتا۔قوموں کے بنے اور بگڑنے کے اسباب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس میں نے اس موقع کے لئے رکھا ہوا تھا جو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔لوگ کہتے ہیں کہ ایک بات ہی تو کی تھی اس بات سے کیا ہو گیا۔یہ غلط بات ہے بات ہی سے تو سب کچھ ہوتا ہے۔بات ہی سے قو میں بنا کرتی ہیں اور بات ہی سے قومیں بگڑ جایا کرتی ہیں۔بات ہی سے لوگوں کے مقدر روشن ہو جاتے اور بات ہی سے لوگوں کے مقدر ڈوب جاتے ہیں اور تاریک ہو جایا کرتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے بھی اس بارے میں بہت دفعہ متنبہ فرمایا کہ زبان کے متعلق ہوشیار رہوا ایک چھوٹا سا جسم کا لوتھڑا ہے لیکن اس سے تمہاری تقدیر بن بھی سکتی ہے اور بگڑ بھی سکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں: " سچے تقویٰ کے بغیر کوئی راحت اور خوشی مل ہی نہیں سکتی تو معلوم کرنا چاہئے کہ تقویٰ کے بہت سے شعبے ہیں“ ( ملفوظات جلد اوّل: ۲۸۰) یعنی جب ہم تقوی کی بات کرتے ہیں تو یہ مطلب نہیں کہ تقویٰ ایک ہی چیز ہے ایک ہی لفظ کا نام ہے ایک ہی مضمون کا نام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں تقویٰ کی شاخیں تو بہت پھیلی پڑی ہیں۔انسانی زندگی کے مختلف شعبوں پر تقویٰ کے شعبے حکمران ہوتے ہیں۔کچھ لوگ اس حکمرانی کو قبول کرتے ہیں کچھ اس حکمرانی کو رد کر دیتے ہیں۔دیکھیں کس حیرت انگیز گہری حکمت کے ساتھ آپ علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ہوئے ہیں تقویٰ کے بہت سے شعبے ہیں جو عنکبوت کے تاروں کی طرح پھیلے ( ملفوظات جلد اوّل صفحه ۲۸۰) جیسے مکڑی کا جال پھیلا ہوا ہوتا ہے اس کے تار پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔آپ نے وہ مثال دی