اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 240 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 240

حضرت خلیفہ امسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات ۲۴۰ خطاب ۳۱ راگست ۱۹۹۱ء اس مثال میں فی ذاتہ ایک بہت عجیب حسن ہے مکڑی کے جالے کے تاراس کثرت سے ہر طرف پھیلے ہوتے ہیں کہ یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ پتہ کریں کدھر سے نکلا اور کہاں چلا گیا اور پھر باریک ہوتے ہیں ایسے باریک کہ بعض جانوروں کو بعض کیڑے مکوڑوں کو دکھائی بھی نہیں دیتے وہ اس میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔جس انسان کی بصیرت کمزور ہو وہ باریک جال دیکھ نہیں سکتا اور اس کو پتہ نہیں لگتا کہ تقویٰ کے جال کہاں کہاں پھیلے ہوئے ہیں کہاں تک پہنچے ہوئے ہیں اور جس کی نظر روشن ہو اس کو پتہ لگ جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے نور بصیرت عطا فرمایا تھا چنانچہ آپ نے مثال بھی بہت عمدہ دی کہ جو عنکبوت کے تاروں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں۔فرمایا کہ تقویٰ تمام جوارح انسانی اور عقائد زبان، اخلاق وغیرہ سے متعلق ہے“ فرمایا کہ تقویٰ کا تعلق انسانی جسم کے ہر عضو سے، انسانی جسم کے ہر حصے سے، ہر خلئے سے ہے اور ہرعقائد سے بھی ہے، زبان سے بھی ہے اور اخلاق سے بھی ہے۔66 نازک ترین معاملہ زبان سے ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ عقائد کا معاملہ سب سے نازک ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ اعضائے بدن کا معاملہ سب سے نازک ہے یہ فرمایا کہ زبان کا جہاں تک تعلق ہے تقویٰ کا تعلق زبان سے سب سے زیادہ نازک تعلق ہے اور اس کے متعلق میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں۔” بسا اوقات تقویٰ کو دور کر کے ایک بات کہتا ہے اور دل میں خوش ہو جاتا ہے کہ میں نے یوں کہا اور ایسا کہا ( ملفوظات جلد اول صفحه ۲۸۰) یہ جو بات ہے یہ تو مردوں پر بھی چسپاں ہوتی ہے، عورتوں پر بھی چسپاں ہوتی ہے مگر اگر میرا اندازہ درست ہے اور اس بارہ میں اگر آپ مجھے معاف فرما ئیں تو میں یہ کہوں گا کہ عورتوں کے مزاج میں یہ بات زیادہ داخل ہے وہ کوئی بات آگے سے کہتی ہیں تو ٹکا کر اس کو جواب دے کر گھر آتی ہیں اور کہتی ہیں اس نے یہ بد کہا تھا میں نے آگے کہہ دیا اس کو اب وہ بیٹھی ہوئی جلتی رہے گی۔میں نے بھی نہیں چھوڑ اوہ کیا بجھتی ہے وہ کیا بات ہے میں تو اس سے بھی زیادہ سخت ہوں۔اور بعض پرانے زمانوں میں عورتیں اس بات پر فخر کیا کرتی تھیں کہ ہم سے زیادہ کپنی کوئی نہیں وہ کپتی ہوگی اپنے گھر پر، مجھ سے زیادہ میرے جیسی کپشتی کہاں ہوگئی۔یہ بد بختی ہے ہمارے معاشرے کی جن معاشروں میں یہ بدبختی نہیں وہ خوش نصیب ہیں۔ہر جگہ کی عورت ایک جیسی نہیں ہے کیونکہ فطرت کے لحاظ سے تو ایک ہے لیکن عادتوں کے لحاظ سے مختلف ہے۔لیکن جہاں تک ہندوستان اور پاکستان کے معاشرے کا تعلق ہے میرا