اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 206 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 206

حضرت خلیفہ امسح الرابع' کے مستورات سے خطابات خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۰ء یجہتی نہ ہو جس قوم کے گھر منتشر ہو جائیں وہ قوم اکٹھی نہیں رہ سکتی اس کے مفادات بکھر جاتے ہیں۔جس قوم کے گھروں میں امن نہیں اس قوم کی گلیاں بھی ہمیشہ امن سے محروم رہیں گی۔یہ ایک ایسا قانون ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت بدل نہیں سکتی۔آپ ان ممالک کے جرائم کا جائزہ لے کر دیکھیں جن ممالک میں آجکل با وجود ترقی کے باوجود اقتصادی ترقی کے باوجود علمی ترقی کے نہایت خوفناک قسم کے جرائم نشو و نما پارہے ہیں اور دن بدن زیادہ بھیانک ہوتے چلے جارہے ہیں۔تو آپ کو آخری وجہ اس کی یہی معلوم ہوگی کہ گھر ٹوٹنے کے نتیجہ میں یہ جرائم بڑھے ہیں۔آج کل انگلستان میں ایک نہایت ہی درد ناک جرم کے تذکرے ہورہے ہیں ہر خبر میں ہر ریڈیو ٹیلی وژن کی Announcement میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ بعض بد بختوں نے گندی نگی فلمیں بنانے کے لئے معصوم بچوں کو اغوء کیا اور جس قسم کی خوفناک فلمیں وہ بنانا چاہتے تھے ان فلموں کے بنانے کے دوران تقریبا ۴۰ بچے موت کے گھاٹ اتار دیئے کیسا کیسا بھیا نک ظلم ان پر کیا ہوگا اور ان کی چیچنیں سننے والا اور ان کی پکار سننے والا کوئی نہیں تھا ایسا درد ناک واقعہ ہے کہ ساری قوم کا سر شرم سے جھک جاتا ہے بلکہ انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔لیکن دیکھ لیجئے اس کی آخری وجہ یہی ہے کہ انفرادیت کی وجہ سے گھر ٹوٹ رہے ہیں اور لذت یابی کے شوق نے قوم کو پاگل کر دیا ہے اور چونکہ گھروں میں امن نہیں رہا اور گھروں میں دلچسپی نہیں رہی اس لئے ایسے گھروں میں پلنے والے نوجوان گلیوں میں نکلتے ہیں۔امن کی تلاش میں نہیں بلکہ لذت کی تلاش میں اور اپنی لذت کی خاطر وہ دوسروں کا امن بر باد کرتے ہیں یہ Drug Addiction اور دیگر Pornography ہر قسم کی جتنی خرابیاں ہیں ان کی آخری وجہ یہی ہے پس اگر چہ گھر توڑنے میں نفرت نے دخل نہیں دیا یا نفرت نے کوئی کردار ادا نہیں کیا مگر گھر ٹوٹنے کے نتیجہ میں نفرت پیدا ہوئی اور عملاً آخر نفرت پر بات ٹوٹتی ہے۔گھر ٹوٹنے کے نتیجے میں سارے معاشرے میں بے اطمینانی اور بے اعتباری اور نفرت کی ہوائیں چلنے لگتی ہیں اور چونکہ لذت یابی کی تلاش باہر کی گلیوں میں ہوتی ہے اس لئے قطعاً کوئی احساس نہیں رہتا کہ کسی کو کیا تکلیف پہنچے گی کسی کو کیا دکھ ہوگا۔تھوڑ اسا روپیہ حاصل کرنے کے لئے Mugging کرتے وقت بعض دفعہ ہاتھ بھی کاٹ دیئے جاتے ہیں جب میں امریکہ گیا یہ ۱۹۷۸ء کی بات ہے تو اپنی بیوی اور دو بچیوں کو لے کر میں Harlum دیکھنے گیا مجھے لوگوں نے بڑا ڈرایا وہاں جانے سے۔انھوں نے کہا کہ وہاں جاتے ہو تو بہت ہی خطرناک جگہ ہے پھر اوپر سے برقعہ پہنا ہوا ہوگا بیوی اور بیٹیوں نے پتا نہیں