اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 196 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 196

حضرت خلیفہ آسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۱۹۶ خطاب ۲۸؍ جولائی ۱۹۹۰ء بالعموم مغربی معاشرے کا خیال ابھرتا ہے اور مغربی معاشرے کی بعض برائیاں ہیں جن پر نظر پڑتی ہے اور سمجھتے ہیں کہ گھروں کے ٹوٹنے کی بڑی ذمہ داری مغربی تہذیب پر ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ انصاف کی نظر سے اگر دیکھا جائے تو مشرق بھی بہت بڑی حد تک ذمہ دار ہے اور بہت سی ایسی معاشرتی خرابیاں مشرق میں پائی جاتی ہیں جن کا مغرب میں کوئی وجود نہیں اور وہ گھروں کے توڑنے میں بہت ہی زیادہ خطرناک کردار ادا کر رہی ہیں۔میں اس مضمون سے پہلے تقویٰ کی نظر سے صورت حال کا جائزہ لیا تو مجھے بعض ایسی باتیں دکھائی دیں جن کے نتیجہ میں میں سمجھتا ہوں کہ بعض پہلوؤں سے مشرقی معاشرہ زیادہ خطرناک صورت حال پیدا کر رہا ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ مغربی تہذیب نے بھی گھروں کو توڑا ہے اور دن بدن تو ڑتی چلی جارہی ہے اور اس کے نتیجہ میں دن بدن معاشرہ زیادہ دکھوں میں مبتلا ہو رہا ہے لیکن ان کے گھر کو توڑنے کا انداز نفرت پر مبنی نہیں بلکہ بے حسی اور عدم توجہ کے نتیجہ میں ہے اور ذاتی خود غرضیوں کے نتیجے میں ہے ذاتی خود غرضیاں تو دنیا میں ہر جگہ اسی قسم کا کردار ادا کیا کرتی ہیں لیکن ہمارے مشرق میں جو تہذیبی خرابیاں پائی جاتی ہیں جو معاشرتی خرابیاں پائی جاتی ہیں وہ محض تعلقات کو تو ڑتی نہیں بلکہ محبت کی بجائے ان میں نفرت کے رشتے قائم کرتی ہیں اور خاندانوں کے درمیان جو شریکے کا لفظ آپ نے سن رکھا ہے جو ہماری صدیوں کی تہذیب کا ورثہ ہے ویسا کوئی تصور آپ کو مغرب میں دکھائی نہیں دیگا اور یہ جو شریکے کا تصور ہمارے ہاں پایا جا تا ہے یہ بہت سے معاشرتی خرابیوں کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔اس لئے انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ جب نصیحت کی جائے تو پہلے تمام صورت حال کا جائزہ لے کر بیماری کا تجزیہ کیا جائے پھر دونوں فریق کو جہاں جہاں کوئی نقص دکھائی دے اس نقص کی طرف متوجہ کیا جائے اور تقویٰ کے ساتھ اللہ کے نام پر نیک نصیحت کی جائے۔جہاں تک مشرقی معاشرے کی خرابیوں کا تعلق ہے اس میں ہمارے رشتوں کا بظاہر مضبوط ہونا عملاً ان رشتوں میں دوری پیدا کرنے کا موجب بن رہا ہے مغرب میں چونکہ گھر الگ الگ ہو جاتے ہیں اور ایک بڑے خاندان کے اکٹھے بسنے کا تصور نہیں ہے یا اگر تھا تو تاریخ میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔لیکن ہمارے ہاں اکثر مشرقی ممالک میں خاندان زیادہ وسیع ہیں اور ان کے باہمی روابط دیکھنے میں مضبوط ہیں اور ایک ہی گھر میں بعض صورتوں میں صرف بہو بیٹا اور ساس اور داماد وغیرہ یہ سارے اکٹھے نہیں رہتے بلکہ چچا تا یا رشتے دار دوسرے اور بعض علاقوں میں تو ان کا ایک ہی کچن ہوتا ہے یعنی ایک ہی مطبخ سے ان کا کھانا تیار ہوتا ہے اور بعض بڑے خاندانوں میں تو ان کے باہمی تجارتوں کے