اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 195 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 195

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۹۵ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۰ء اپنے گھروں کو جنت نشان بنا ئیں (جلسہ سالانہ مستورات برطانیہ سے خطاب فرمودہ ۲۸ / جولائی ۱۹۹۰ء) تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی۔ياَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً (النساء:۲) آج کے اس خطاب کے لئے میں نے گھر کا عنوان منتخب کیا ہے آج کے اس جدید دور میں دنیا کو امن کی تلاش ہے اور امن کی تلاش میں دنیا سرگرداں ہر اس امکانی گوشے پر نگاہ رکھ رہی ہے جہاں سے وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں امن کے حصول کی کوئی توقع ہو سکتی ہے اور ہر اس راہ پر دوڑتے چلے جاتے ہیں جہاں وہ امید رکھتے ہیں کہ اس راہ پر آگے بڑھنے سے ہمیں امن نصیب ہو جائے گا لیکن امن کے قریب ہونے کی بجائے دن بدن امن سے دور ہٹتے چلے جارہے ہیں امن کی تلاش میں وہ گلیوں میں بھی نکلتے ہیں شہروں میں بھی اور ملکوں میں بھی سرگرداں پھرتے ہیں۔لیکن وہ امن جو گھر میں نصیب ہوسکتا ہے وہ دن بدن ان کے گھروں کو ویران چھوڑتا چلا جا رہا ہے جیسے پرندہ گھونسلے کو چھوڑ کر اڑ جائے اسی طرح امن گھروں کو چھوڑ کر رخصت ہوتا چلا جا رہا ہے۔آج کے معاشرے میں خواہ دنیا کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہو مشرق سے تعلق رکھتی ہو یا مغرب سے تعلق رکھتی ہو۔شمال سے جنوب سے سب سے اہم ضرورت گھروں کی تعمیر نو ہے ہمارے ذہنوں میں جب ہم گھر کی بربادی کا نقشہ سوچتے ہیں اور خاندانوں کے ٹوٹنے کا تصور باندھتے ہیں