اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 181
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۸۱ خطاب ۲ جون ۱۹۹۰ء یسعیاہ نے اور حضرت موسیٰ نے اور جتنے نبیوں کے نام آپ کو یاد ہیں آپ دیکھتی چلی جائیں تاریخوں کا مطالعہ کریں سب نے یہی دین سکھایا تھا اور اسی طرح دین کو فروغ دیا تھا۔کوئی استثناء آپ کو دکھائی نہیں دیتا۔دین کی خاطر اپنی جانیں پیش کر دیں اپنے اموال پیش کر دیئے اور اپنی عزتیں لٹادیں اپنے گھروں کے آرام تج کر دیئے جو کچھ تھا وہ سب لے کر خدا کے حضور حاضر ہو گئے اور اپنی جھولیاں خالی کر دیں تب خدا نے ان جھولیوں کو بھرا اور دنیا اور دین کی دولتوں سے ان کو مالا مال کر دیا مگر دنیا کی طاقتوں کے ذریعے ان کو کچھ نصیب نہیں ہوا اس رنگ میں جماعت احمدیہ نے اسلام پھیلانا شروع کیا اور اسی رنگ میں جماعت احمد یہ ہمیشہ اسلام پھیلاتی چلی جائے گی اور ہم جانتے ہیں کہ لازماً ہم جیتیں گے کیونکہ یہ وہ آزمودہ طریق ہے جو ایک حدیث کے مطابق ایک لاکھ چوبیس ہزار بار آزمایا گیا۔ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء دنیا میں تشریف لائے۔ایک بھی ایسا نہیں تھا جو دولتیں بانٹنے کے لئے آیا تھا، ایک بھی ایسا نہیں تھا جو لوگوں کی جانیں ضائع کرنے کے لئے آیا تھا، ہر ایک ان میں سے ایسا تھا جس نے اپنا سب کچھ خدا کے حضور لٹادیا اور لوگوں کو قربانی کے رستوں کی طرف بلایا اور کوئی شخص جس میں ادنی سی عقل بھی ہو وہ عقلاً بھی یہی نتیجہ نکالے گا اس کے سوا کوئی نتیجہ نکالا جا نہیں سکتا کہ قوموں کی اصلاح قربانی کے رستوں پر ڈالے بغیر ممکن نہیں ہے۔وہ دنیا جو پہلے ہیMaterialist ہو چکی ہے، جو دنیا کی دولتوں کی طرف جھک گئی ہے اور في الحقيقت ان کو سجدہ کر رہی ہے اگر دنیا کی محبت ان کے دلوں سے کائی نہ جائے ، اگر ان کو خدا کی راہ میں قربانی کے اسلوب نہ سکھائے جائیں تو کیسے ممکن ہے کہ وہ اصلاح پذیر ہو جائیں۔کوئی اور نسخہ اصلاح کا نہیں ہے سوائے اس کے کہ انسان کو اس کی عظمت یاد کرائی جائے اس کو بتایا جائے کہ اس کی عظمت اس بات میں ہے کہ وہ قربانیاں لینے کی بجائے قربانیاں پیش کرنے والا ہو۔خدا کی خاطر ہر دوسری محبت کو کاٹ کر الگ پھینک دے تب اس کی اصلاح نفس ہوگی تب اس کے اندر سے ایک نئی تخلیق پیدا ہوگی جس کو قرآن کریم خلق آخر بیان کرتا ہے۔یہ تو ہے مختصر تاریخ جماعت احمدیت کے طرز عمل کی اور یہ مختصر تاریخ ایک سو سال تک پھیل چکی ہے اور ایک سو سال سے دنیا دیکھ رہی ہے کہ ہم نے ان نقوش قدم کو نہیں چھوڑا جو نقوش قدم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقوش قدم تھے اور آپ سے پہلے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے نقوش قدم تھے۔ان راہوں سے بہت لوگ گزر چکے ہیں ہم نے وہ نقوش قدم اختیار کئے جو قربانیاں کرنے والوں کے