اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 182
حضرت خلیفہ اسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۱۸۲ خطاب ۲ جون ۱۹۹۰ء نقوش قدم تھے ، وہ نقوش قدم دوسروں کے لئے چھوڑ دیئے جو بھیٹریوں کی طرح خدا کے بندوں پر حملہ آور ہوتے رہے اور خدا کے پاک بندوں سے قربانیاں لیتے رہے ان کی جانیں تلف کرتے رہے، ان کے اموال لوٹتے رہے، ان کے سرتن سے جدا کرتے رہے، ان کی عزتیں لوٹتے رہے اور ان کو ہر قسم کے دکھ جو انسان دوسرے انسان کو دے سکتا ہے دیتے رہے اور دیتے چلے گئے وہ نقوش قدم بھی ملتے ہیں اور ساری تاریخ ان نقوش قدم سے میلی ہوئی پڑی ہے۔جماعت احمدیہ نے اپنے لئے وہ نقوش قدم چنے جو قربانی دینے والوں کے نقوش قدم ہیں اور سو سال سے بڑی وفا کے ساتھ اس راہ پر ہم نے قدم رکھا ہے۔آپ وہ مائیں ہیں جنہوں نے اگلے سو سال کی ضمانت دینی ہے ، آپ وہ مائیں ہیں جنہوں نے یہ بتاتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کی ایسی تربیت کریں گی اور اس طرح ان کے ذہنوں میں یہ ان مٹ سنت الانبیاء نقش کر دیں گی کہ وہ کبھی اس بات کو بھلا نہ سکیں ، وہ انہیں رستوں پر گامزن رہیں یہاں تک کہ اگلی صدی آجائے اور پھر اگلی صدی کے سر پر کھڑا ہونے والا خلیفہ اس وقت کی ماؤں کو یاد کرائے کہ دو سو سال تم نے بڑی وفا کے ساتھ انبیاء کے نقوش قدم کی پیروی کی ہے ان کو چومتے ہوئے تم آگے بڑھے ہو، اٹھو! اور اگلی صدی کی ضمانت دو اور اے دوسری صدی کے آخری وقت پر پیدا ہونے والی ماؤں ! تم اس جھنڈے کو اگلی نسلوں کے لئے آگے بڑھا دو اور یہ ضمانت دو کہ تم ایسی تربیت کرو گی کہ ان پاکیزہ اسباق کو تمہاری نسلیں کبھی نہیں بھولیں گی۔یہ وہ پیغام ہے جو میں آج آپ کو دینا چاہتا ہوں اور یہ پس منظر میں نے اس لئے بیان کیا کہ دن بدن تربیت کی راہ میں ہمارے لئے اور مشکلات پیدا ہوتی چلی جارہی ہیں۔جہاں تک جماعت احمد یہ میں داخل ہونے والے مغربی لوگوں کا تعلق ہے اس کے متعلق مجھے خاص طور پر فکر ہے اور اس فکر سے میں آپ کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں تا کہ اس کو ذہن نشین رکھ کر آپ اگلی نسلوں کی تربیت میں نہ صرف اپنے بچوں کے لحاظ سے کوشش کریں بلکہ دوسرے مغربی دنیا سے تعلق رکھنے والے نو مسلموں کے بچوں کے لئے بھی آپ وقت دیں اور کوشش کریں۔جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ایک ایسا المیہ ہے جس کا ہماری ذات سے تعلق ہے۔وہ ایسے محرکات ہیں جن پر ہمیں اختیار تھا لیکن ہم اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر سکے۔امریکہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں احمدی ہو چکے تھے، انگلستان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں احمدی ہو چکے تھے، کئی جرمن فلسفی تھے، کئی روسی فلسفی تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام سے بہت گہرے طور پر متاثر ہو چکے تھے لیکن وہ لوگ کہاں گئے۔ان کی اگلی نسلوں نے نہ پھر اُن