اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 9
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۹ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۲ء ادا کیا اور ٹکٹ جاری ہونے کے باوجود روک دیئے۔چنانچہ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو ہر طرف سے طعن و تشنیع کے فون آنے شروع ہوئے۔بڑی سختی کی گئی ان کے اوپر ، بعض والدین نے گالیاں دیں، بعض بچیوں نے فون کئے کہ یہ تم لوگوں نے کیا قصہ چلایا ہوا ہے۔میری بیوی کے پاس ایک بچی آئی اس نے کہا یہ چلے گا نہیں معاملہ کر کے دیکھ لیں۔پھر ایک ہماری بچی کے پاس چند لڑکیاں آئیں اس سلسلہ میں گفتگو ہونے لگی تو انہوں نے کہا کہ تم تو پردہ بھی کرتی ہو اور گھر سے باہر بھی نہیں نکلتی اس لئے تمہیں سٹیج کا نہیں صدارت کا ٹکٹ ملنا چاہئے۔غرضیکہ اپنے دل کے جتنے بھی دکھ تھے وہ انہوں نے جس طرح بھی پیش آئی بس چلی وہ دوسرے کے دلوں کو دکھوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔چر کہ جب عورت لگاتی ہے تو یہی مطلب ہوتا ہے کہ میرے دل کا دکھ میرے دل میں کیوں رہے۔میں اپنے دل کا دکھ تمہارے دل میں منتقل کرتی ہوں اور اب میں چھٹی کر جاتی ہوں عیش کرو جو مرضی کرنا ہے کرو۔یہ ساری باتیں جب مجھے پہنچیں تو میں نے ان سے کہا کہ آپ کیوں غمگین ہوتی ہیں یہ تو میرا فیصلہ ہے یہ غم آپ کے دل میں بھی نہیں رہنے چاہئیں یہ تو میرے دل میں منتقل ہونے کا حق رکھتے ہیں۔آپ مجھے دے دیں میں جانوں اور میرا خدا جانے۔آپ ہرگز غمگین نہ ہوں بے فکر ہو کر ان باتوں کی تعمیل کریں جن کا ذمہ دار میں ہوں۔آپ پر ان کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔اس وقت مجھے خیال آیا اور آغاز اسلام میں بھی تو یہی ہوتا تھا۔میں کیا اور میری بساط کیا۔میں تو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے غلاموں کا غلام ہوں، گنہ گار اور کمزور انسان نہیں جانتا کہ کیوں اللہ تعالیٰ نے مجھے اس منصب پر فائز فرمایا لیکن جیسا بھی میں تھا اور جیسا بھی میں ہوں، میں کمزور انسان ہوں اور اس منصب کی ذمہ داریاں لازماً ادا کرنے کی کوشش کروں گا مجھے دنیا کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں۔میں اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ مرنے کے بعد خدا کے حضور جوابدہ ہوں اس لئے دنیا کی باتیں تو میں برداشت کروں گا خدا کی جواب دہی مجھے قبول نہیں ہے۔میں نے ان سے کہا آپ بے فکر رہیں اس سے پہلے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بھی باتیں کرنے والوں کی زبانوں نے نہیں چھوڑا تو ہم کیا حیثیت رکھتے ہیں۔مختلف فیصلے مختلف نیتوں کے ساتھ کئے جاتے ہیں اور مختلف نیتیں ان کی طرف منسوب کر دی جاتی ہیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب فتح مکہ کے بعد اور غزوات سے فارغ ہوکر واپس مدینہ جانے لگے تو اس سے پہلے ایک واقعہ ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان مہاجرین کو جو