اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 103
حضرت خلیفتہ مسیح الرابع" کےمستورات سے خطابات ۱۰۳ خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء یہ حقوق ادا کرنے ہیں تو ایک ایسا خوف کھائے شادی سے کہ وہ رنڈ وار ہنا پسند کرے۔خدا تعالی کی تحدید کے نیچے رہ کر جوشخص زندگی بسر کرتا ہے وہی ان کی بجا آوری کا دم بھر سکتا ہے۔ایسے لذات کی نسبت جن سے خدا تعالیٰ کا تازیانہ ہمیشہ سر پر 66 رہے تلخ زندگی بسر کر لینی ہزار ہا درجہ بہتر ہے۔( ملفوظات جلد چہارم ص:۴۹) ایک سے زائد بیویاں اگر نفس کی خواہش کے پیش نظر کوئی انسان اختیار کرتا ہے اور اُن تمام حقوق کی بجا آواری نہیں کرتا جو اسلام نے اس پر عائد فرمائے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا تازیانہ ہمیشہ سر پر رہے اس زندگی سے بہتر ہے کہ وہ تلخ زندگی کو قبول کرلے۔پھر فرمایا ایک اور ترکیب ہے جو میں آپ کو آج بتا تا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے الفاظ میں اور وہ آپ کے کام آسکتی ہے یعنی ان عورتوں کے جن کے خاوند محض تعلیم کا بہانہ بنا کرنفسی اغراض کی خاطر زیادہ شادیاں کرنا چاہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُن کو ایک علاج بتاتے ہیں فرمایا: جبکہ یہ مسئلہ اسلام میں شائع متعارف ہے کہ چار تک بیویاں کرنا جائز ہے مگر جبر کسی پر نہیں (یعنی نہ مرد پر ہے نہ عورت پر ہے ) اور ہر ایک مرد اور عورت کو اس مسئلہ کی بخوبی خبر ہے تو یہ ان عورتوں کا حق ہے کہ جب کسی مسلمان سے نکاح کرنا چاہیں اول شرط کرالیں کہ ان کا خاوند کسی حالت میں دوسری بیوی نہیں کرے گا اور اگر نکاح سے پہلے ایسی شرط لکھی جائے تو بے شک ایسی بیوی کا خاوند اگر دوسری بیوی کرے تو جرم نقض عہد کا مرتکب ہوگا۔“ (روحانی خزائن جلد ۲۳ص: ۲۴۶) ایک طرف سے اجازت ہوگی دوسری طرف ایک اور نقض عہد کے جرم کا مرتکب ہو گا اس لئے اسلام کبھی اس کی اجازت نہیں دے سکتا تو آپ کو ترکیب بھی میں آخر میں بتا دیتا ہوں لیکن اس ترکیب کا ناجائز استعمال نہ کریں کہ جہاں جائز ضرورتیں ہیں وہاں ان جائز ضرورتوں سے بھی آپ منہ موڑ لیں اور اسلام کی روح کے منافی عمل کرنا شروع کر دیں۔ایک جائز ضرورت مرد کی اولاد ہے اگر مردذ مہ دار ہے اولاد کے نہ ہونے کا تو پھر چونکہ ایک سے زیادہ مردوں کی اجازت عقلاً ممکن ہی نہیں ہے اس لئے اس کا حل تو یہ ہے کہ عورتیں مردوں سے علیحدگی اختیار کرلیں اور اس بناء پر ان کو اسلامی قانون لازماً طلاق کا حق دیتا ہے اگر عورت قصور وار ہے یہ قصور واران معنوں میں کہ وہ مجبور ہے بچے پیدا نہیں کرسکتی