اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 104 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 104

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۰۴ خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء تو مرد کو اس حق سے باز نہیں رکھا جا سکتا اور پھر بہانے کر کے کہ نا انصافی کرو گے، یہ کرو گے یا معاہدے ہم نے کر لئے ہیں پھر یہ مناسب نہیں ہے کہ اسلام کی روح کے منافی کا روائی کی جائے۔اس کے ذکر کا خیال مجھے اس لئے آیا کہ چند مہینے پہلے میں نے خطبہ میں یہ کہا تھا کہ جماعت احمد یہ جو اپنی دوسری صدی میں داخل ہو رہی ہے ہمارے دل میں تمنا ہے کہ ہم خدا کے حضور کچھ تحفے پیش کریں۔ہم نے بہت روپوں کی قربانی کی اور کئی قسم کی قربانیاں کیں اور اصلاح نفس کے پروگرام بنائے ،اصلاح معاشرہ کے پروگرام بنائے تا کہ ہم جب نئی صدی میں داخل ہوں تو بہت بہتر حال میں خدا کے حضور نیکیوں کے ہدیے لے کر داخل ہوں۔اس ضمن میں مجھے خیال آیا جو میں سمجھتا ہوں خدا تعالی کی طرف سے یہ تحریک تھی کہ کیوں نہ ہم اپنے بچے خدا کے حضور تحفے کے طور پر پیش کریں جو اگلی صدی کے انسانوں کی ذمہ داریاں قبول کرنے کے لئے ہم خدا کی جماعت کے سپرد کر دیں کہ جس طرح چاہو ان کی تعلیم وتربیت کرو اور آئندہ صدی کے انسانوں تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے ان کو استعمال کرو۔چنانچہ میں نے تحریک کی کہ خطبہ کے بعد سے آئندہ صدی تک آپ اگر یہ عہد کر لیں کہ ہمارے ہاں جو بھی بچہ پیدا ہوگا ہم خدا کے حضور پیش کر دیں گی تو ایک بہت ہی پیارا تحفہ ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ اس کی برکت سے بعض گھر جو اولاد کی رونق سے محروم ہیں اللہ تعالیٰ ان کو اولاد بھی عطا فرما دے۔چنانچہ اس سلسلہ میں ابھی سے بعض اطلاعیں حیرت انگیز ملنی شروع ہوئی ہیں کہ خدا کے فضل کے ساتھ جب بعض میاں بیوی نے یہ ارادہ کیا تو باوجود اس کے کہ سالہا سال سے اولاد نہیں تھی اللہ تعالیٰ نے اس نیک تمنا کی برکت سے ان کو امید سے بنا دیا ان کے گھر میں امید بنادی اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس ہدایت پر جہاں تک ممکن ہے عمل کرنا چاہئے اور کثرت کے ساتھ آئندہ صدی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے اپنے بچے پیش کرنے چاہئیں۔اس تحریک کے نتیجہ میں یہ جو دوسرا مسئلہ تھا یہ بھی اُٹھ کھڑا ہوا ایک سے زیادہ شادیوں کا۔چنانچہ بعض مردوں کو بہانہ مل گیا انہوں نے کہا ہمارے بچے پہلے تو موجود ہیں لیکن ہم اس صدی کے لئے وقف کرنا چاہتے ہیں اس لئے دو سال رہ گئے ہیں فوراً اجازت دیں ہم شادی کر لیں تا کہ بچہ پیدا ہو اور ہم اسلام کے حضور پیش کر دیں۔میں نے کہا کوئی ضرورت نہیں ہے جو پہلے بچے ہیں وہی ٹھیک ہیں اُن کو کیوں وقف نہیں کرتے۔کہ دو کہ ہم مجبور ہیں پہلے بچے وقف ہو جائیں گے۔لیکن بعض مردوں نے عورتوں پر اتنا دباؤ ڈالا کہ وہ بے چاریاں اپنے اخلاص میں مجبور ہوکر اجازت دینے لگ گئیں کہ ہاں اگر اس نیک نیت سے تم کرتے ہو تو ہماری طرف سے اجازت