اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 79
حضرت خلیفتہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات 29 خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء بحث اُٹھتی ہے تو عموماً ایک مغالطہ آمیزی سے کام لیا جاتا ہے اور وہ مغالطہ آمیزی یہ ہے کہ مغربی تہذیب کو اسلام کے مقابل پر پیش کیا جاتا ہے حالانکہ مغربی تہذیب کوئی مذہب نہیں ہے۔اسلام ایک مذہب ہے۔اگر فوقیت پیش کرنا مقصود ہے تو بائبل کی تعلیم کی قرآن کی تعلیم پر فوقیت دکھانی چاہئے اور یہ ایک جائز موازنہ ہے۔یہودیت کی تعلیم کی فوقیت ، عیسائیت کی تعلیم کی فوقیت دکھائی جائے تو یہ بحث بے تعلق نہیں ہوگی لیکن اگر مذہب کے مقابل پر تہذیب کی بحثیں شروع کر دی جائیں تو یہ بالکل لا تعلق بات ہے لیکن میں اس پہلو کو بھی بعد میں لوں گا۔سردست آپ کو یہ توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جب بھی کوئی عیسائی آپ سے گفتگو کرتے ہوئے اسلام کی کسی تعلیم پر حملہ آور ہو تو آپ ہمیشہ پہلے بائبل سے اس کا موازنہ کیا کریں اور تہذیب کو نظر انداز کر دیا کریں کیونکہ کسی انسان کا یہ حق نہیں کہ ایک کلاس کی چیز کا کسی دوسری کلاس کی چیز سے موازنہ کرے۔بائبل کے نمونے اب آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔بائیل کہتی ہے۔بیوی اپنے شوہر سے ڈرتی رہے“ (امثال ۵:۲۸:۳۳) پیدائش ۳:۱۶ میں لکھا ہے کہ شوہر تجھ پر حکومت کرے گا“ اب جو الزام اسلام پر لگا رہے تھے وہ الزام تو خود بائبل سے ثابت ہو گیا۔اگر حکومت کرنا بری بات ہے تو پھر عیسائیت نے خود حکومت کی بنیاد ڈالی ہے۔سب سے پہلے اگر حکومت کی تعلیم دی ہے تو یہود بیت نے یعنی توربیت نے دی ہے۔جہاں تک انجیل کا تعلق ہے انجیل کہتی ہے۔۔چاپ رہے 66 میں اجازت نہیں دیتا کہ عورت سکھائے یا مرد پر حکم چلائے بلکہ چپ (۱ تیمتھیس باب ۱۲:۱) (۱۔جہاں تک سکھانے کا تعلق ہے اس نے بات کو عام کر دیا ہے۔صرف مذہب کا معاملہ نہیں ،، رہا۔دنیا میں عورت کو ئی بھی تعلیم نہیں دے سکتی اور مرد پر حکم چلانا ہی بند نہیں کیا بلکہ بچاری کی زبان بھی بند کر دی۔”چپ چاپ رہے حکم نہ دینے تک بات رہتی تو ٹھیک تھا لیکن عورت بیچاری کو جو بولنے کا ویسے ہی شوق رکھتی ہے اُس کی زبان گنگ کر دینا یہ کہاں کا انصاف ہے؟ پھر فرمایا: