اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 676 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 676

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات خطاب ۲۶ اگست ۲۰۰۰ء امید ہے۔مرد کو چاہئے کہ اپنے قومی کو برمحل اور حلال موقع پر استعمال کرے مثلاً ایک قوت غضبی ہے۔( یعنی غصہ کی قوت ہے )۔جب وہ اعتدال سے زیادہ ہو تو جنون کا پیش خیمہ ہوتی ہے جنون میں اور اس میں بہت تھوڑا فرق ہے جو آدمی شدید الغضب ہوتا ہے اس سے حکمت کا چشمہ چھین لیا جاتا ہے بلکہ اگر کوئی مخالف ہو اس سے بھی مغضوب الغضب ہو کر گفتگو نہ کرے۔“ ( ملفوظات جلد سوم ص: ۱۵۶ ۱۵۷) بدقسمتی سے ہمارے جماعت میں بھی بہت سے ایسے لوگ ہیں جو مغضوب الغضب ہو جاتے ہیں ان کو سمجھانے کی بار بار کوشش کی جاتی ہے تو کہتے ہیں ہم مجبور ہیں۔غصہ کے وقت ہم سے ایسی حرکتیں سرزد ہو جاتی ہیں اور بعد میں وہ عورتوں سے معافی بھی مانگتے ہیں یا مانگتے ہوں گے مگر حقیقت میں غصے کی حالت میں ایسی ایسی سخت تکلیفیں دیتے ہیں کہ اس کے بعد معافی مانگنے کا کوئی سوال نہیں رہتا۔ان تکلیفوں کا گناہ تو ان کو پہنچ جاتا ہے بعض لوگ اتنے مغضوب الغضب ہوتے ہیں کہ میں نے تحقیق کی ہے۔حقیقتاً بلاشبہ وہ عورتوں کو ان کے مرحوم ماں باپ کے طعنے دیتے ہیں اور بہت ظلم کے ساتھ ان کے خلاف بدزبانی کرتے ہیں اب اس کو عورت برداشت نہیں کر سکتی۔مجبوراً پھر ایسی عورتیں طلاق کی درخواست کرتی ہیں یہ وہ ہیں جن کے لئے طلاق یعنی ضلع لینا جائز ہے مگر مردوں کو چاہئے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بیان فرمودہ طریق کے مطابق جب غصہ آئے تو کچھ بات نہ کریں پہلے ایک گھونٹ پانی کا پیئیں پھر لیٹ جائیں اور غور کریں۔رفتہ رفتہ وہ غصہ ٹھنڈا ہو جائے تو پھر ان کی ندامت ان کے کس کام آئے گی۔پھر فرماتے ہیں ! ” مرد کی ان تمام باتوں اور اوصاف کو عورت دیکھتی ہے وہ دیکھتی ہے میرے خاوند میں فلاں فلاں اوصاف تقویٰ کے ہیں جیسے سخاوت، حلم، صبر اور جیسے اسے پرکھنے کا موقع ملتا ہے وہ کسی دوسرے کو نہیں مل سکتا۔( یعنی عورت جس طرح اپنے خاوند کو پر کھ سکتی ہے کوئی دوسرا اس کے خاوند کو