اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 655 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 655

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات خطاب ۲۹ جولائی ۲۰۰۰ء ایک روایت مسلم کتاب الجنائز میں حضرت ابو ہریرہ کی مروی ہے کہ ایک سیاہ رنگ کی عورت مسجد کی صفائی اور اس کی دیکھ بھال کرتی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی دن تک اس کو نہ دیکھا تو آپ نے اس کے متعلق پوچھا۔لوگوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تو وفات ہوگئی۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے کیوں نہ اس کی اطلاع دی؟ دراصل صحابہ رضوان اللہ علیم نے اس کو معمولی انسان سمجھ کر یہ خیال کیا تھا کہ اس کے متعلق حضور کو کیا تکلیف دینی ہے۔چنانچہ حضور نے فرمایا مجھے اس کی قبر دکھاؤ۔لوگوں نے قبر دکھائی تو آپ نے وہاں جا کر اس کی نماز جنازہ پڑھی اور فرمایا یہ قبریں تاریکی سے بھری ہوئی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ میری نماز اور دعا کی وجہ سے ان کو منور اور روشن فرما دیتا ہے۔تو یہ بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فصاحت و بلاغت ہے جو ہمیشہ اپنی شان دکھلاتی تھی کہ وہ سیاہ رنگ کی عورت تھی تو فرمایا یہ اس کی سیاہی کا سوال نہیں ساری قبریں ہی تاریکی سے بھری ہوتی ہیں مگر میری دُعا سے منور ہو جاتی ہیں۔بخاری کتاب الجنائز میں حضرت عائشہ صدیقہ کی یہ روایت مروی ہے کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی اور اس نے عذاب قبر کا ذکر کیا اور حضرت عائشہ سے کہا اللہ آپ کو عذاب قبر سے بچائے۔چنانچہ حضرت عائشہ نے رسول اللہ سے عذاب قبر کی بابت دریافت کیا۔آپ نے فرمایا ہاں عذاب قبریج ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں اس کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بھی نماز پڑھتے نہیں دیکھا مگر اس میں عذاب قبر سے بخشش طلب کیا کرتے تھے۔یہ ضروری نہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر نماز کے وقت یہ دعاسنی ہو مگر جو بھی جب بھی سنی یہ سنا کہ آپ عذاب قبر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ایک روایت بخاری ہی میں حضرت زنیب بنت ابی سلمہ سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت ام حبیبہ کے پاس حاضر ہوئی وہ فرمانے لگیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ کسی مومن عورت کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتی ہے۔یہ جائز نہیں کہ وہ کسی عزیز کی وفات پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اپنے خاوند کے کہ جس کے لئے وہ چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی یعنی عدت مقرر ہے۔سوگ نہ کرنے سے مراد ہے زیبائش اور بناؤ سنگھار سے پر ہیز رکھے۔کہتی ہیں پھر میں زنیب بنت جحش کے پاس آئی۔جب ان کا بھائی فوت ہوا انہوں نے تیسرے دن کے بعد کچھ خوشبو منگا کر لگائی پھر فرمایا مجھے اس خوشبو وغیرہ کی