اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 654
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۵۴ خطاب ۲۹ جولائی ۲۰۰۰ء برداشت نہیں کر سکیں گے۔سعد نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیا؟ آپ نے فرمایا یہ محبت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کی اور اللہ اپنے بندوں میں سے انہی پر رحم کرتا ہے جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔ایک اور روایت بخاری کتاب الجنائز میں حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کی مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہم عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے سے روکتے لیکن اس بارہ میں زیادہ بختی نہیں فرماتے تھے۔جنازے میں جو روکنے کی وجہ تھی جنازے کے ساتھ جانے میں بعض دفعہ عورتیں نوحہ وغیرہ کیا کرتی تھیں لیکن اگر عورت جائے اور اصرار کرے کہ میں نے جانا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو سختی سے نہیں روکا کرتے تھے۔حضرت ام سلیم کی ایک روایت بخاری میں ہے۔نہایت صابر اور مستقل مزاج تھیں ابو عمیر ان کا بہت لاڈلا اور پیارا بیٹا تھا لیکن جب اس نے انتقال کیا تو نہایت صبر سے کام لیا اور گھر والوں کو منع کیا کہ ابوطلحہ کو اس واقعہ کی خبر نہ کریں۔رات کو ابوطلحہ آئے تو کھانا کھلایا اور نہایت اطمینان سے بستر پر لیٹے کچھ رات گذرنے پر ام سلیم نے اس واقعہ کا تذکرہ کیا لیکن عجیب انداز سے بولیں تمہیں کوئی شخص عاریتاً ایک چیز دے اور پھر اس کو واپس لینا چاہے تو کیا تم اس کے دینے سے انکار کرو گے؟ ابوطلحہ نے کہا۔کبھی بھی نہیں تو پھر فرمایا تو اب تم کو اپنے بیٹے کی طرف سے صبر کرنا چاہئے۔ابوطلحہ یہ سن کر خفا ہو گئے کہ پہلے کیوں نہ بتایا؟ صبح اٹھ کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور سارا واقعہ بیان کیا۔آپ نے فرمایا خدا نے اس رات تم دونوں کو بہت برکت دی ہے کہ خدا نے پہلے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دے دی تھی کہ یہ واقعہ ہوا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ نے جب وفات پائی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر کی وجہ سے ان کے جنازے میں شریک نہ ہو سکے لیکن جب واپس آئے اور اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو نہایت رنجیدہ ہو کر قبر پر تشریف لائے اور ارشاد فر مایا عثمان بن مظعون پہلے جاچکے اب تم بھی ان کے پاس چلی جاؤ۔اس دردناک فقرے نے عورتوں میں کہرام بر پا کر دیا۔حضرت عمرؓ اُٹھے تا کہ ان پر سختی کر کے ان کو بند کریں آپ نے ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا رونے میں کچھ حرج نہیں لیکن نوحہ اور بین شیطانی حرکت ہے اس سے بچنا چاہئے۔حضرت فاطمہ بھی بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئیں وہ قبر کے پاس بیٹھ کر روتی جاتی تھیں اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کپڑے سے ان کے آنسو پونچھتے جاتے تھے۔