اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 644
حضرت خلیفہ المسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۴۴ خطاب کیکم جولائی ۲۰۰۰ء خوفناک آگ لگ گئی اور ہوا کا رخ ایسا تھا کہ گھر کے گھر جلاتی چلی گئی ، جلاتی چلی گئی۔حضرت مولوی رحمت علی صاحب اللہ کے فضل سے ایک زندہ نشان ہیں انڈونیشیا کے لئے ، ہمیشہ نشان بنے رہیں گے۔آپ اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے اور آگ آپ کے گھر کے کنارے کو چھونے لگی تھی۔سب لوگ نیچے اتر آئے جو پہلے ان کے پاس تھے اور شور مچانا شروع کر دیا کہ خدا کے لئے تم بھی نیچے اتر جاؤ آگ تمہیں جلا کر بھسم کر دے گی۔حضرت مولوی صاحب نے جواب دیا کہ دیکھو میں اس ابراہیم کا غلام ہوں جس کے غلاموں کی بھی آگ غلام ہے اور ناممکن ہے کہ یہ آگ مجھے یا میرے گھر کو جلا دے۔آگ کے شعلے چھور ہے تھے اور وہ مرد خدا اتنے تو کل کے ساتھ اس گھر میں بیٹھا ہوا تھا، صاف انکار کر دیا نیچے اتر نے سے۔اسی ہوا کے دوش پر بادل بھی چلے آرہے تھے عین اس وقت جب آگ کی لپیٹیں آپ کے گھر کے ایک پہلو کو چھونے لگیں آسمان سے اتنے زور سے بارش برسی کہ وہ آگ خودا اپنی راکھ پر ڈھیر ہوگئی اور انڈو نیشیا کو ایک عظیم الشان نشان اللہ تعالیٰ نے دکھایا۔پس یا درکھیں دعا اور تو کل یہ دو عظیم الشان باتیں ہیں جن کے ذریعہ آپ کو انشاء اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ ہر بلا سے ہر آگ سے محفوظ رکھے گا۔اس کے بعد میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ خاموش دعا میں میرے ساتھ شامل ہو جائیں جس کے بعد ترجمہ کیا جائے گا آئیے اب دعا کر لیجئے۔(آمین )