اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 59 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 59

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۵۹ خطاب ۲۶ ؍جولائی ۱۹۸۶ء اے لوگو اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو۔تمہیں خدا نے نفس واحدہ سے پیدا فرمایا ہے۔دنفس واحدہ کے بہت سے مفاہیم ہیں جن کو میں مختلف نکاحوں کے خطبات میں بیان کرتا رہا ہوں اور وہ آئندہ بھی بیان ہوتے رہیں گے اور کوئی نہیں جو ان مفاہیم کو ختم کر سکے کیونکہ قرآن کریم کے علوم کی روشنیاں ہر آیت سے اس رنگ میں پھوٹ رہی ہیں کہ وہ لا زوال بھی ہیں اور اُن کا محیط کرنا ممکن نہیں رہتا پھیلتی چلی جاتی ہیں۔زمانے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتی ہیں اور انسان کو نور بخشتی چلی جاتی ہیں تو اس آیت کے بھی بڑے گہرے مفاہیم اور مطالب ہیں جن پر کوئی انسان احاطہ نہیں کر سکتا، لیکن ایک ان میں سے یہ ہے کہ ہم نے تمہیں نفس واحدہ سے پیدا کیا یعنی تمہاری عزت مرد اور عورت کے لحاظ سے برابر ہے، تمہارے حقوق مرد اور عورت کے لحاظ سے برابر ہیں ہم نفس واحدہ کی پیداوار ہو اور ایک دوسرے کا محتاج اور ممنون احسان نہیں ہے اس پہلو سے ی تعلیم عیسائیت کی تعلیم سے کتنی مختلف ہے۔جو یہ کہتی ہے کہ عورت کو مرد کی پہلی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسلئے عورت اپنی تخلیق میں مرد کی محتاج ہے۔جہاں تک آغاز کا تعلق ہے،انسانیت کے آغاز کا تعلق ہے، قرآن کریم اس تعلیم کو ر ڈ کرتا ہے اور یہ فرماتا ہے کہ مرد اور عورت اپنے آغاز کے لحاظ سے ایک دوسرے کے محتاج نہیں ہیں بلکہ برابر کا درجہ رکھتے ہیں کیونکہ ان کی پیدائش کا آغاز نفس واحدہ سے کیا گیا تھا۔یہ Scientific مضمون ہے جو تفصیلات کو چاہتا ہے لیکن یہاں اس کی تفصیل کو بیان کرنے کا وقت نہیں ہے۔پیدائش کی غرض کیا بیان فرمائی۔فرمایا: سے۔وَمِنْ أَيْته أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَ رَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ (الروم : ۲۲) يَتَفَكَّرُونَ کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے اس کی آیات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہیں خود ایک دوسرے سے پیدا کیا ، ایک دوسرے سے تمہارے لئے جوڑے پیدا کئے۔۔کیوں پیدا کئے ؟ اس لئے نہیں کہ ایک دوسرے پر جبر کرے اور زیادتی کرے۔فرمایا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا تا کہ تم ایک دوسرے کی طرف سکینت کی تلاش کرتے ہوئے جھکو اور ایک دوسرے کے اوپر انحصار کرو۔تسکین کی خاطر وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت کو پیدا فرمایا۔پس شادی بیاہ کے بعد اگر یہ مقصد پورا نہیں ہوتا یا جوڑے اس مقصد کو نظر انداز کر دیتے ہیں ، خواہ مردوں کا قصور ہو یا