اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 58
حضرت خلیفہ انسخ الرابع" کے مستورات سے خطابات مسیح ۵۸ خطاب ۲۶ جولائی ۱۹۸۶ء جھگڑ جھگڑ کے، جس کا پہلے داؤ لگے وہ اُس سے چھین لیتا تھا یا چھین لیتی تھی اور اب ایک نیا دستور بن گیا۔یعنی مرد نہ صرف یہ کہ اُس دوران عورت کو کھلاتا بلکہ جب بچے پیدا ہوئے تو مسلسل چکر لگا تا تھا، جہاں ہم روٹی پھینکتے تھے، وہاں سے گھونسلے تک اور صبح بھوکا ہونے کے باوجود، جب تک اپنی مادہ کا اور اپنے بچوں کا پیٹ نہیں بھر لیتا تھا، اُس وقت تک وہ نظر بھی نہیں کرتا تھا اپنی ذات کیلئے۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ جس طرح کامل طور پر ایک بے نفس شخص ہے۔حیرت سے میں اُس کو دیکھتا رہا، اس جوڑے کو اور مجھے خیال آیا کہ اگر اسلامی تعلیم پر ، قرآن کی اس آیت پر ہی آج کے انسان نے غور کیا ہوتا تو باقی دنیا چھوڑیئے، یورپ کے بھی بہت سے مسائل حل ہو جاتے۔عورت کو اس دور میں ایک بوجھ سمجھ کر چھوڑ دیا جاتا ہے،اُس کی عزت کم کر دی جاتی ہے، اُس کی خدمت کے تقاضے پورے نہیں کئے جاتے بلکہ بعض گھروں میں تو اس دور میں اُس سے خدمت لی جاتی ہے اور بعض بھیانک ایسی شکلیں میرے سامنے یعنی بہت ہی تکلیف دہ بعض احمدی گھروں کی بھی سامنے آئیں کہ عورت حاملہ ہونے کی وجہ سے بجائے اس کے کہ اُس کو آرام دیا جائے ، اُس کا خیال رکھا جائے ، اُس پر اُسی طرح بوجھ پڑے رہے ، بلکہ بچہ پیدا کرنے کے بعد سمجھا گیا کہ جلدی سے جلدی وہ اپنی دوسری خدمتیں فوراً شروع کر دے یہاں تک کہ جیسا کہ میں نے ایک دفعہ خطبے میں بیان کیا تھا بارش ہو رہی ہے، سردی کا وقت ہے ماں، جو ساس، اپنی بیٹیوں کو کہنے کی بجائے کہ تم باہر سے چار پائیاں اٹھا کر اندر لے آؤ اپنی بہو کو کہ رہی ہے کہ جاؤ اور جا کر چار پائیاں اُٹھا کر لے آؤ۔اُس کے نتیجے میں اُس کے ہاتھ پاؤں جڑ گئے کیونکہ وہ وقت ایسا تھا کہ جب بدن کچا ہوتا ہے اور خصوصاً اُن دنوں میں اگر بارش میں ٹھنڈ کے زمانے میں عورت باہر نکلے تو بڑے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔تو یہ سارا ظلم جو دنیا میں ہو رہا ہے اس چھوٹے سے قرآنی تقاضے کو نظر انداز کر کے ہورہا ہے کہ تم کم سے کم جانوروں سے ہی سبق سیکھ لو۔اگر انسانوں سے سبق نہیں سیکھ سکتے کہ انسان بگڑ چکے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے جانور کی تہذیب کی تو آج تک حفاظت فرما رکھی ہے۔کوئی نہیں جو اُس تہذیب کو بدل سکے۔اُن میں وہ تہذیب جو اسلامی تقاضوں کے قریب ترین ہے جو اسلامی تعلیمات کے قریب ترین ہے آج بھی تمہارے لئے مشعل راہ ثابت ہوسکتی ہے۔پھر فرمایا:- ياَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءَ ( سورة النساء:۲)