اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 616
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۶۱۶ خطاب ۲۲ راپریل ۲۰۰۰ء گندی کر لیتے ہیں۔تو اس بارے میں میں نے بارہا پہلے بھی سمجھایا ہے اب بھی میں سمجھتا ہوں کہ اس کی ضرورت ہے کہ آپ ہر گز اس بات کی فکر نہ کریں اور اس بناء پر جھوٹ نہ بولیں کہ یہاں آپ کو رزق ملتا ہے ورنہ وہ گندا رزق کھانے کا کیا فائدہ۔دیکھئے جب آپ کہتی ہے کہ ربنا الله۔اللہ ہمارا رب ہے تو سوچ سمجھ کر کہا کریں یقین کے ساتھ کہا کریں اللہ کے سوا اور کوئی رب نہیں۔جب یہ کہا جائے اور پورے خلوص سے کہا جائے تو پھر ابتلا بھی آتے ہیں، بہت تیز آندھیاں چلتی ہیں۔جھگڑہ چلتے ہیں کہ کسی طرح اس مضبوط تر درخت کو جو پاک درخت ہے، پاکیزہ کلمات کا درخت ہے۔اس کو اکھیٹر پھینکیں۔اور جو کمزور ہوں وہ تو ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے ان ک تو یہ آندھیاں اکھاڑ پھینکتی ہیں اور وہ شجرہ طیبہ کی بجائے ایک شجرہ خبیثہ بن کر دنیا میں اِدھر اُدھر لڑھکتے پھرتے ہیں۔دراصل تو آخرت ہے جس کی حفاظت کی ضرورت ہے اور جب انسان ثابت قدمی دکھائے تو اسی دنیا میں اس کو وہ آخرت کی ضمانت مل جاتی ہے۔یہ خیال نہ کریں کہ بعد کا وعدہ ہے جو شاید پورا ہو شاید نہ ہو یہ ایسا وعدہ ہے جو اسی دنیا میں پورا ہو جاتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے۔کہ وہ جو یہ عہد کرتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر تو کل کرتے ہیں اس پر قیام پکڑ لیتے ہیں۔تنزل عليهم الملائكة۔ان پر فرشتے کثرت سے نازل ہوتے ہیں ایسے فرشتے جو پیغام دیتے ہیں نحن اولیاء کم فی الحياة الدنيا وفي الآخرة كم ہم تو اس دنیا میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھی ہیں۔پس دنیا میں ان کی زندگی جس میں فرشتے ان کے ساتھ ہوتے ہیں وہ اس بات کی ضمانت ہو جاتی ہے کہ آخرت بھی انہی کی ہوگی اور ایسے فرشتے جو بولتے ہوئے کلام کرتے ہوئے آتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں پس یہ وہ خوش قسمت ہیں جن کو ایسے فرشتوں کی آواز سنائی دے، خواہ کچی خوابوں کے ذریعے ، خواہ کشوف کے ذریعے خواہ الہامات کے ذریعے مگر جب تک یہ بات پوری نہ ہو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک یقینی شہادت مل جائے۔اس وقت تک آپ اطمینان نہ کریں کہ آپ کا انجام بخیر ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ بکثرت احمدیوں میں ایسے لوگ موجود ہیں مرد بھی اور عورتیں بھی جو پوری استقامت کے ساتھ اپنے عہد پر قائم ہیں اور اللہ تعالی کے فضل سے ان پر فرشتے اترتے بھی ہیں اور بہت سے خطوط میں کثرت سے لوگ مجھے ایسے ایسے امور لکھتے ہیں جن سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ان پر جو کچھ بھی نازل ہوا وہ اللہ کا کلام تھا فرشتے لے کر آئے تھے اور اللہ کے فضل کے ساتھ ان کو اس کلام کے نتیجے میں مزید استقامت ملتی ہے ، ان کی توفیق خدا پر توکل کی پہلے سے بڑھ جاتی ہے۔پس