اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 615 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 615

حضرت خلیفہ مسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات ۶۱۵ خطاب ۲۲ راپریل ۲۰۰۰ء استقامت کے شیریں ثمرات نیز پردہ کی نصیحت خطاب جلسہ سالانہ مستورات ہالینڈ فرموده ۲۲ را پریل ۲۰۰۰ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: الحمد للہ کہ اسی کے فضل کے ساتھ ہمارالجنہ کا یہ اجتماع بہت کامیاب ہے کئی پہلو کے لحاظ سے اول تو لجنہ ہالینڈ کی حاضری ناصرات سمیت ما شاء اللہ اتنی ہو چکی ہے کہ کسی زمانے میں سب مردوں عورتوں کی ملا کر اس سے آدھی بھی نہیں ہوا کرتی تھی۔دوسرے ساتھ کے ممالک سے بھی خدا تعالی کے فضل سے کافی مہمان تشریف لائے ہوئے ہیں اور کل تعداد بیرونی ممالک کے آنے والوں کی ۳۱ ہے۔یہ تو محض تمہیدی کلمات تھے۔اب میں آپ کے سامنے ایک بات بیان کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا: إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا ( حم السجدہ : ۳۱) یہ وہ چیز ہے جس کی خصوصیت کے ساتھ اس وقت لجنہ اماءاللہ کو بھی اور مردوں کو بھی ضرورت ہے کہ وہ اس پیغام کو سمجھیں جو اللہ تعالی نے ان کو عطا فرمایا ہے۔بہت سے خطوط ملتے رہتے ہیں کہ اب ہمیں نکال دیا گیا ہے اب ہم نکال دیئے جائیں گے ہمیں واپس اپنے ملک بھیج دیا جائے گا غرضیکہ بہت سے ایسے پریشانی اور گھبراہٹ کے خط ملتے ہیں لیکن وہ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ اللہ جو یہاں انکا رب ہے وہ وہاں بھی ان کا رب ہے۔سب سے ضروری بات یہ ہے کہ اس بات پر انسان قائم رہے کہ ہمارا رب اللہ ہے نہ اس دنیا کی کوئی حکومت ہے ہر جگہ ایک ہی خدا ہے اور جس کو وہ چاہتا ہے بے حساب روزی عطا فرما دیتا ہے۔پس ایسی گھبراہٹ اور پریشانی دراصل شرک پر منتج ہوتی ہے اور رفتہ رفتہ ایسے لوگوں کو جھوٹ بولنے کی بھی عادت پڑتی جاتی ہے اور وہ جھوٹ بول کے رزق کی خاطر اپنی عاقبت بھی