اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 598
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۹۸ خطاب ۳۱ جولائی ۱۹۹۹ء عیب چینی ، غیبت اور تفاخر سے پر ہیز کی نصیحت (جلسہ سالانہ مستورات برطانیہ سے خطاب فرمودہ ۳۱ / جولائی ۱۹۹۹ء) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: آج کا جو مضمون ہے اس کا ذکر عملاً اس تلاوت قرآن کریم میں گزر چکا ہے جو آپ کے سامنے پیش کی گئی تھی اور کچھ اس کا اثر مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کا اثر جس کی وجہ سے میری آواز بھرائی ہوئی ہے مگر یہ وقت کی مجبوری ہے میں انشاء اللہ اس پر قابو پا لوں گا۔سب سے پہلے میں آپ کے سامنے اس اجلاس کی حاضری سے متعلق کچھ گزارشات کرنی چاہتا ہوں۔یہ سب اللہ کے فضل ہیں جس پر بے اختیار ہمارے دل سے الحمد للہ کی آواز نکلتی ہے اس جلسے میں اللہ کے فضل کے ساتھ چالیس ممالک سے خواتین شرکت کر رہی ہیں۔جرمنی سے آنے والی خواتین کی تعداد تو ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور ان کا شمار ہمارے بس میں نہیں رہا اس لئے ہم نے محفوظ اندازہ پیش کیا ہے کہ ہزار سے زیادہ تعداد میں جرمن احمدی یا پاکستانی جرمن احمدی خواتین شامل ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان سے دوصدا کتالیس ۲۴۱ خواتین کے یہاں پہنچنے کی اطلاع با قاعدہ رجسٹر ڈ ہو چکی ہے اس کے علاوہ کچھ ہوں تو ہمیں علم نہیں۔انڈونیشیا سے امسال باوجود اس کے کہ وہاں بہت اقتصادی بحران تھا بڑا قافلہ پہنچا ہے جس میں سے ۲۰ خواتین کا وفد ہے۔فلسطین سے امسال سب سے زیادہ تعداد میں فلسطینی احمدی خواتین شامل ہوئی ہیں یعنی ۲۵ ، سب سے زیادہ سے مراد ہے انڈو نیشیا سے بھی زیادہ انڈونیشیا سے بھی زیادہ ہیں مگر انڈو نیشیا بہت دور کا ملک ہے اور جیسا اقتصادی بحران وہاں ہے ویسا فلسطین میں تو خدا کے فضل سے نہیں ہے مگر پھر بھی ان کی تعداد قابل احترام ہے ۲۵ کی تعداد میں خواتین پہنچی ہیں اور اللہ کے فضل سے ساری اخلاص کے رنگ میں رنگین ہیں اور یہاں ایک نیا روحانی