اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 591 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 591

حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۹۱ خطاب ۲۲ را گست ۱۹۹۸ء آگاہ کرنا ہوگا اور قناعت کا مضمون جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا نہ ختم ہونے والا مضمون ہے۔اس کا دنیا سے بھی تعلق ہے آخرت سے بھی تعلق ہے۔ایک حدیث میں حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قناعت ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے۔اب قناعت میں بظاہر غربت ہے اور آنحضور فرما رہے ہیں کہ یہ نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے۔جس کو قناعت نصیب ہو جائے اس کو سب کچھ نصیب ہو گیا اور یہ قناعت ہے جو ایک نہ ختم ہونے والاخزا نہ بھی بن جاتا ہے۔میں نے اس سلسلے میں حضرت خلیفتہ اسی الاول کی ایک روایت بیان کی تھی وہ جو میں اکثر کیا کرتا ہوں لیکن اس مضمون میں وہ دوبارہ یاد آرہی ہے اس لئے میں پھر آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔خلافت سے پہلے جب جموں میں حضرت خلیفتہ اسی الاول طبیب ہوا کرتے تھے وہ ایک راستے سے گزرتے تھے جہاں ایک نگا فقیر صرف لنگوٹی پہنے ہوئے ، بھوک راکھ بدن پر ملی ہوئی بیٹھا رہتا تھا اور اس کا چہرہ ہمیشہ غم سے آلودہ اور اس طرح اس کے چہرے سے اظہار ہوتا تھا جیسے اسے اپنی غربت پہ بہت غم ہے مگر مانگتا پھر بھی نہیں تھا۔اس کا حال دیکھ کر جوچاہے اس کے دامن میں کچھ ڈال جائے اس طرح وہ بیٹھارہتا تھا۔ایک دفعہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی روایت کے مطابق جب اس کے پاس سے گزرے تو خوشی سے اچھل رہا تھا، چھلانگیں مار رہا تھا۔آپ حیران رہ گئے کہ کل تک تو اس کا کچھ اور حال تھا آج یہ چھلانگیں مار رہا ہے۔کیا ہوا تمہیں کیا خزانہ مل گیا ہے۔اس نے پنجابی میں کہا جس کی کوئی خواہش نہ رہے اس کو سب خزانے مل گئے اس کی ساری خواہشیں پوری ہوگئیں۔اب دیکھو کتنا گہرا مضمون ہے کہ اس فقیر نے قناعت کا بیان فرمایا اور یہ اسی کی تفسیر ہے جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قناعت ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے۔جب حرص مرجائے تو جو کچھ بھی ہے انسان اس پر خوش ہوگا اور اگر یہ خیال ہو کہ اللہ نے عطا فرمایا ہے تو اور بھی زیادہ خوش ہوگا۔تو اس فقیر کی چھلانگیں بے معنی چھلانگیں نہیں تھیں ایک گہرا حکمت کا راز اس کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا جو اس کی پہلی قناعت کے نتیجے میں تھا۔پس یہ وہ باتیں ہیں جن کو آپ کو اپنی اولاد کو سمجھانا ہے۔ورنہ وہ کہیں گے ہم کیسے قناعت کریں غریب سی زندگی ہے، بُرا حال ہے لیکن حرصوں کو کم کرنا ضروری ہے اور جب انسان اللہ پر نظر ڈالے تو پھر حرصیں کم ہو سکتی ہیں پھر تمنا میں آہستہ آہستہ کم ہوسکتی ہیں اس کے بعد جو زندگی سکون کی مل سکتی ہے اس کی کوئی مثال نہیں۔حضرت رسول اللہ کی زندگی میں بے شمار ایسی مثالیں ہیں جن سے