اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 54
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۴ خطاب ۲۶ ؍جولائی ۱۹۸۶ء میں Lesbianism بڑھ رہا ہے اس کے مقابل پر مردوں میں Lesbianism کی بجائے homosexuality اتنی بڑھ چکی ہے کہ ایک نہایت ہی خوفناک صورت اختیار کر چکی ہے۔امریکہ آج کی سب بدیوں میں سب سے زیادہ آگے ہے۔یورپ کو بدیاں سکھانے میں پیش پیش ہے۔امریکہ کے بعد سویڈن اور ڈنمارک وغیرہ کی باری آتی ہے۔بہر حال امریکہ میں تو بڑی بڑی leagues ہیں اور بڑی بڑی مردوں کے حقوق کی حفاظت کی Associations قائم ہو چکی ہیں عورتوں کے مقابل پر۔اور وہ کہتے ہیں کہ قانون ہمیں وہ سارے تحفظ دے جو از دواجی تعلقات میں تحفظات دیئے جاتے ہیں اور مرد با قاعدہ قانونی طور پر مردوں سے شادی کریں اور ان کے بڑے بڑے جلوس نکلتے ہیں اور ان کو قومی ٹیلی ویژن اور ریڈیو وغیرہ دکھاتے ہیں کہ دیکھو یہ حقوق لے رہے ہیں مرد اپنے۔تو عورت نے جو حقوق لینے کی تحریک شروع کی تھی چونکہ وہ خدائی تحریک نہیں تھی کیونکہ اس کے او پر کسی نبی کا تاج نہیں تھا، کسی نبی کی رہنمائی کی روشنی ان کو حاصل نہیں تھی اس لئے ایسی بے راہ ہو چکی ہیں یہ تحریکات کہ کچھ بداثرات تو اب ظاہر ہو چکے ہیں، کچھ آئندہ ہونے والے ہیں اور جو بد اثرات ظاہر ہورہے ہیں ان میں سے ایک بداثر بیماریوں کی شکل میں ظاہر ہو رہار ہے۔آزادی! آزدی! آزادی ! یعنی کس چیز کی آزادی؟ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ بے حیائی کی آزادی دو۔اور اس آزادی سے مرد بہت خوش ہیں یہاں۔وہ کہتے ہیں تم آزادی مانگو ہم دیتے چلے جائیں گے کیونکہ بالآخر جہاں اشترا کی تہذیب میں قانون کی صورت میں تمہیں سب کی جائیداد بنانا ہے، وہاں تم خود آزادیاں مانگتے مانگتے ہم سب کی جائیداد بنتی چلی جارہی ہو۔ہمیں اس پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟ تو تین قسم کے نئے تہذیبی تقاضے ابھر رہے ہیں۔یا تین قسم کے تقاضے نہیں کہنا چاہئے ، ایک تقاضے کے نتیجے میں تین قسم کے آثار ابھر رہے ہیں۔ایک مرد کا مرد کی طرف رجحان اور عورت کو نظر انداز کر دینا۔دوسرا عورت کا عورت کی طرف رجحان اور مرد کو نظر انداز کر دینا۔تیسرا تمام تہذیبی تقاضوں کو پس پشت ڈال کر ، تمام مذہبی اور اخلاقی قوانین کو پس پشت ڈال کر ، آزادی جنس کی تعلیم دینا اور اُس کو فروغ دینا۔یہ تینوں چیزیں کیا عورت کے حق میں ہیں؟ کیا اس کا نام آزادی ہے عورت کے لئے ؟ اس کو اپنے پیش نظر رکھیں پھر اسلام کی تعلیم کا موازنہ کریں پھر دیکھیں کہ اسلام کیا دیتا ہے اور کیا چاہتا ہے اور عورت کی کیا عزت قائم کرتا ہے۔کہاں یہ تعلیم ، کہاں یہ فلسفہ کہ عورت کا دوسرا نام جہنم ہے۔