اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 55
حضرت خلیفتہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۵ خطاب ۲۶ جولائی ۱۹۸۶ء عورت جہنم کی طرف لے کے جاتی ہے اور کہاں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی تعلیم کہ جت تمہاری ماؤں کے پاؤں کے نیچے ہے۔کوئی نسبت ہے ان دونوں تصورات میں اور ان دونوں فلسفوں میں؟ اب میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ ، وقت کی کمی کے پیش نظر، ذرا مختصر کرنا پڑے گا تفصیل سے تو نہیں اب میں کہہ سکوں گا ، کچھ آپ کے سامنے اسلامی تعلیم کا تعارف پیش کرتا ہوں۔اگر چہ طبعی اور جبی طور پر مرد اور عورت میں ایک فرق موجود ہے اور اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس فرق کو نظر انداز نہیں کیا اور جہاں بھی مرد اور عورت کے معاملہ میں تعلیم میں فرق کیا گیا ہے وہاں لازماً بلا استثناء اس فطری اور جہتی فرق کے پیش نظر وہ فرق کیا گیا ہے اس لئے اب جب میں اس موضوع پر گفتگو کروں گا جس موضوع کو عموماً یورپ میں اعتراض کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو آپ کو بتاؤں گا کہ اس کے سوا اس سے بہتر تعلیم ممکن ہی نہیں تھی۔مرد اور عورت کی بناوٹ میں، اس کے طرزفکر میں ، اس کے جذبات میں ،اس کے تصورات میں جو طبعی جبلی تقاضوں سے تعلق رکھنے والے تصورات ہیں ، ایک بنیادی فرق ہے۔عورت ماں بن سکتی ہے ، مردماں بن نہیں سکتا جو چاہیں آپ کر لیں۔مرد مجبور ہے اور وہ ماں بن نہیں سکتا اور عورت مجبور ہے وہ باپ بن نہیں سکتی۔وہ مشینری اللہ تعالیٰ نے عورت کو مہیا کی ہے جس کے ذریعہ بچے پیدا ہوتے ہیں نو مہینے وہ ان کو اپنے پیٹ میں پالتی ہے اور اس کے نتیجہ میں اس بچے کے ساتھ ایک ایسا گہرا زائد تعلق ماں کو پیدا ہو جاتا ہے جو باپ کو نہیں اور اس کی پرورش کیلئے وہ مجبور ہے۔عورت کے بغیر باپ وہ پرورش نہیں کر سکتا اس لئے عورت کے حقوق قائم ہونے چاہئے تھے جو اس کو باقی کاموں سے آزاد کریں اور گھر میں بچوں کی پرورش کے لئے خاص کر دیں۔ان حقوق کا نام یورپ پابندیاں رکھتا ہے اور ان پابندیوں پر پھر اعتراض کرتا ہے یہ میں آپ کو مثال دے رہا ہوں۔لیکن اگر آپ اسلامی تعلیم کا گہرا مطالعہ کریں تو آپ حیران ہوں گی یہ معلوم کر کے کہ جن کو پابندیاں کہا جاتا ہے، وہ دراصل عورت کے حقوق ہیں لیکن جہاں تک اس کے سوا تعلیم کا تعلق ہے اسلام مکمل طور پر عورت اور مرد میں برابری کی تعلیم دیتا ہے اور انہیں بار بار اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ تم دونوں کے حقوق جنسی فرق کے باوجود ایک سے ہیں اور خدا کی نظر میں ایک ہی طرح تم جوابدہ ہو گے۔فرمایا وَمِنْ كُلِّ شَيْ خَلَقْنَازَ و جَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (الذاریات: ۵۰) کہ دیکھو ہم نے تو ہر چیز سے جوڑے پیدا کئے ہیں تو تم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے ، یعنی