اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 52
حضرت خلیقہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۵۲ خطاب ۲۶ ؍جولائی ۱۹۸۶ء خرابیاں پیدا ہور رہی ہیں جن کا بظاہر کوئی علاج نظر نہیں آتا۔مثلاً کہاں یہ وقت کہ اس صدی کے آغاز تک بلکہ تقریباً وسط تک بہت سی عورتوں کو اپنے خاوندوں کے گھر پر بھی کوئی حقوق حاصل نہیں تھے، اپنے ماں باپ کے گھروں پر بھی کوئی حقوق حاصل نہیں تھے، اپنے بچوں کے گھروں پر بھی کوئی حقوق حاصل نہیں تھے بلکہ بعض قوانین کے مطابق تو وہ جائیداد بنا ہی نہیں سکتی تھیں۔کہاں یہ ایسے قوانین، بعض ممالک کے کہ جن میں عورت کو تقریباً تمام حقوق دے دیئے گئے ہیں جس دن چاہے کان پکڑ کے خاوند کو باہر نکال دے اور اس سے چابیاں لے لے۔اور صرف اس کو یہ کرنا ہو گا کہ خاوند کے کپڑے سوٹ کیس میں سجا کر یا جس طرح بھی پیک کر سکتی ہے جلدی میں کرے اور دروازے کے باہر رکھ دے اور ایک نوٹ لکھا ہو کہ آئندہ سے تمہارا اس گھر پر کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ قانون یہ ہے کہ اگر عورت علیحدگی کا فیصلہ کرے تو مرد اور عورت کی مشتر کہ جائیداد عورت کے نام ہوگی اور تمام عمر جو مرد نے کمائی کی ہے، خواہ عورت نے اُس میں حصہ نہ بھی لیا ہو تب بھی وہ عورت کو ملے گی۔چنانچہ سکینڈے نیوین کنٹریز میں یہ باتیں عام ہیں۔اب کہ کسی دن خاوند بیچارہ کام سے لوٹتا ہے، تو باہر ایک سوٹ کیس پڑا ہوتا ہے، اس پر ایک نوٹ لکھا ہوتا ہے کہ اب مہربانی فرما کر واپس تشریف لے جائیے اب یہ گھر میرا ہے، اس کے سارے حقوق میرے ہیں، آپ کا میرے سے کوئی تعلق نہیں۔اس کے نتیجے میں عورت خود خوشیوں سے محروم ہو گئی ہے۔عورت کی فطرت تو تبدیل نہیں ہو سکتی، جتنی آپ آزادیاں دیں محض آزادی خوشی کی ضمانت نہیں ہے بلکہ عورت کی ایک فطرت ہے جسے خدا نے بنایا ہے۔وہ جھکاؤ چاہتی ہے ، وہ انحصار چاہتی ہے ، وہ محبت کا ہاتھ چاہتی ہے جو اس کے سر پر ہو۔بطور ماں وہ سر پر ہاتھ رکھنے کی اہل بھی ہے لیکن بحیثیت بیوی وہ یہ چاہتی ہے کہ بطور ماں جو میں نے خدمت کی ہے قوم کی اب اس عمر میں آکر میری خدمت ہو اور کوئی میری نگہداشت کرے، میں کسی کا سہارا ڈھونڈوں میں کسی پر انحصار کروں۔جب ایسی آزادی مل جائے کہ یہ انحصار ختم ہو جائیں تو بظا ہر عورت آزاد ہوتی ہے لیکن در حقیقت اس کے اندر ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے، ایک ایسی جستجو اور ایسی طلب پیدا ہو جاتی ہے کہ جس کا کوئی جواب نہیں ملتا۔ایک تنہائی کا ایسا احساس پیدا ہو جاتا ہے جو پھر کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔نتیجہ ساری سوسائٹی بے چین ہو جاتی ہے۔میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا میں نے جب سکینڈے نیوین ممالک کا ۱۹۶۸ء میں دورہ کیا تو وہاں اس موضوع پر مختلف عورتوں سے گفتگو ہوتی رہی اور حیرت سے میں نے دیکھا کہ اتنی بے اطمینانی ہے، اتنی بے چینی ہے وہاں عورت میں کہ بعض عورتیں