اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 49
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات جاتی تھیں تھیں یا نہیں، یہ الگ مسئلہ ہے۔۴۹ خطاب ۲۶ ؍جولائی ۱۹۸۶ء اس کے مقابل پر آپ یا درکھیں کہ اسلام نے عورت کو ایک عظیم معلمہ کے طور پر پیش کیا ہے۔صرف گھر کی معلمہ کے طور پر نہیں بلکہ باہر کی معلمہ کے طور پر بھی۔ایک حدیث میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے متعلق یہ آتا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ آدھا دین عائشہ سے سیکھو۔اور جہاں تک حضرت عائشہ صدیقہ کی روایات کا تعلق ہے دینی مسائل میں واقعہ لگ بھگ آدھے دین کے۔حضرت عائشہ کی روایات سے ہمیں دین کا علم ملتا ہے۔اگر ان روایات کو نکال دیا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے دین آدھا رہ گیا ہو۔صرف یہی نہیں کہ وہ یہ روایات بیان کرتی تھیں بلکہ بعض اوقات آپ نے اجتماعات کو خطاب فرمایا اور یہ ایک عام سہولت مہیا تھی کہ جس کسی کو بھی کسی معاملے میں علم کی تلاش ہوتی ،کسی روایت کی تلاش ہوتی تو حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس سہولت سے پہنچتا اور پردے کی پابندی کے ساتھ آپ سے سوال کرتا اور آپ سے ہر قسم کی معلومات حاصل کرتا۔پس چودہ سو سال پہلے عورت کو جس حیثیت سے پیش کیا گیا اُس کا عشر عشیر بھی یورپ کی کل تک کی صدیوں کو نصیب نہیں ہوا تھا۔جہاں تک دیگر فلسفوں اور مذاہب کا تعلق ہے، میں مختصر اب ان کا بھی ذکر کر دوں۔سوشل ازم اور کمیونزم یہ آج کی جدید ترین ریاست کی بنیاد کا فلسفہ ہے، جسے ہم Commonism یا Scientific Socialism کے نام سے جانتے ہیں اگرچہ Marx نے اقتصادی پہلو کے لحاظ سے سوشل ازم کی بنیاد رکھی اور بہت بڑی خدمت کی، لیکن اُس کا فلسفیانہ پس منظر Engels کا مرہون منت ہے۔اور Engels نے وہ تمام نظریات پیش کئے جن کو بنیاد بنا کر Marx نے Socialism کی تشکیل کی ہے۔Engels کا عورت کے متعلق جو تصور ہے، جسے بعد میں Lenin نے اپنایا اور اپنی کتب میں بکثرت اور بشدت اُس کی توثیق کی، اگر چہ ابھی تک مکمل طور پر عورت کو وہ مقام عطاء نہیں ہوسکا، الحمد للہ کہ ابھی تک عورت کو Communist Society میں وہ مقام عطا نہیں ہوسکا، مگر اُن کا آخری رُخ اس طرف ہے۔وہ کس طرف آپ کو لیجانا چاہتے ہیں ، وہ نہیں۔اینگلز کہتا ہے کہ مرد عورت کا رشتہ ازدواجی رشتوں میں منسلک کرنا ایک بہت ہی بھیا نک فعل ہے جب آپ میاں بیوی کے رشتہ میں عورت اور مرد کو منسلک کر دیتے ہیں تو سوسائٹی میں کئی قسم کی خرابیاں جنم لیتی ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یا مرد عورت پر ظلم کرنے لگ جاتا ہے یا عورت مرد پر ظلم کرنے