اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 511
حضرت خلیفت صیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۱۱ خطاب ۲۶ جولائی ۱۹۹۷ء دنیا بھر میں رضا کارانہ خدمت کر نیوالی احمدی خواتین کا تذکرہ (جلسہ سالانہ مستورات برطانیہ سے خطاب فرموده ۲۶ جولائی ۱۹۹۷ء) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج لجنہ کے اس خطاب میں میں نے مضمون دستور سے ہٹ کر ایک اور رنگ میں اختیار کیا ہے۔پہلے تو میں آپ سب کو نصیحتیں کیا کرتا تھا کہ یہ بھی کرو اور وہ بھی کر و۔اب میں آپ کو داد دینا چاہتا ہوں کہ آپ نے خوب کیا ہے۔اور آج کا خطاب لجنہ اماءاللہ نہیں بلکہ مسلم احمدی خواتین ، بڑی اور بچی اور چھوٹی ہر قسم کی ان کو داد و تحسین دینے پر مشتمل ہے مگر اس سے پہلے میں آپ کو ایک واقعہ پڑھ کر سنا تا ہوں ، جو درد ناک ہے۔اس پہلو سے اگر عورتوں کی طرح میرے بھی آنسو نکل آئیں تو مجھے معذور سمجھیں ، کیونکہ واقعہ بہت عظیم ہے اور دل پر گہرا اثر کرنے والا ہے۔ایک ایسی مسلم خاتون کا واقعہ ہے، جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں آئندہ آنے والی خواتین کے لئے ایک نئی بناء ڈالی اُن کا نام ام عمارہ تھا۔یہ غزوہ اُحد میں مشکیزے بھر بھر کے زخمیوں کو پانی پلا رہی تھیں۔اچانک انہوں نے کیا دیکھا کہ بہت بھگدڑ مچ گئی اور بڑے بڑے جوان مرد بھی آنحضرت کا ساتھ چھوڑ کر بھاگنے لگے۔اس خاتون نے مشکیزہ ہاتھ سے پھینک دیا اور تلوار ہاتھ میں پکڑ لی اور آنحضرت کے لئے سینہ سپر ہوگئیں۔وہ پہلی خاتون ہے،اگر چہ آپ نے خولہ کا نام سنا ہے، مگر خولہ تو بعد میں آنے والی ان کا ایک نمونہ تھی ، ان کی جاری کردہ رسموں پر چلنے والی ایک خاتون تھی۔تو پہلی خاتون جس نے غزوہ احد کے موقع پر بلکہ تمام تاریخ اسلام میں ،تلوار ہاتھ میں پکڑی اور