اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 508 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 508

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۵۰۸ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء جاتا ہے۔پھر وہ آگ بنانے کے لئے اُس نے وہ جھونپڑی بنائی جس سے آگ دی جاتی ہے۔وہ پتے اکٹھے کئے جو آگ میں جھونکے جاتے ہیں۔اس نے کہا جب میں یہ سوچ رہا تھا تو مجھے خیال آیا کہ وہ لوہار بھی تو ہے جس نے وہ برتن بنایا تھا۔اس نے کیا کیا محنت نہیں کی اور پھر دماغ اس لوہار کی طرف چلا گیا۔تو ایک میٹھے کا جو احساس ہے اُس کے لئے ہی میرے تصور نے اتنے سفر کئے ہیں۔کہ دانہ ختم ہو جاتا تھا وہ سفر ختم نہیں ہوتا تھا۔اور میں سوچتا تھا کہ اللہ کی شان دیکھو میری خاطر، میرا منہ میٹھا کرنے کے لئے اللہ نے اتنی دور خدا جانے کس ملک میں وہ کسان پیدا کیا جس کسان نے یہ منتیں کی تھیں اور پھر میٹھا بنا کر اُس کو صاف کرنے کے لئے کارخانے بنوا دیئے اور ان کارخانوں میں وہ گنے گئے اور وہ کاٹے گئے اور ان سے رس نکالے گئے۔پھر ان کی صفائی کی گئی پھر اُسے صاف اور پاک میٹھے کی صورت میں تبدیل کیا گیا۔وہ دانہ جو میرے حصے میں آیا تھا جب چلا تب تو اللہ نے میری خاطر بنایا تھا۔کتنے سفر کر کے مجھ تک پہنچا ہے۔اور میں بڑا ہی ظالم ہوں گا کہ اگر چہ یہ سوچے بغیر کے کون میرا محسن ہے اُٹھایا لڈو منہ میں ڈال لیا اور ختم کر دیا ہم ہر وقت ہر کھانے پہ یہ تو نہیں کر سکتے۔مگر ہر کھانے کے وقت شکر کا تصور تو ضرور باندھ سکتے ہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے سکھایا کہ کھانے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ لیا کرو۔یہ تو سوچا کرو کہ کس نے تمہیں دیا ہے۔اور جب ختم کرو تو اللہ کا شکر ادا کیا کرو۔اتنا سا بھی اگر ہم سے ممکن نہ ہو تو ہم کوخدا سے محبت کیسے ہوگی۔پس محبت کے ان گنت رستے ہیں۔ایک ایک رستے پر اگر آپ چل کے دیکھیں تو ان گنت مواقع ہیں جن سے خدا تعالیٰ کی محبت آپ کے دل میں اس طرح اُچھلے گی جیسے ماں کے دل میں بیٹے کی محبت اُچھلتی ہے۔اُس سے بھی زیادہ بڑھ کے کیونکہ دونوں کا کوئی موازنہ ہی نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ کے احسانات اور ان کی وسعتیں اور ان کی عظمتیں تو لا متناہی ہیں انسان کے تصور میں آنہیں سکتیں۔مگر پہلے ایک شکر والا دل تو پیدا کریں۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔تیرے کوچے میں کن راہوں سے آؤں وہ خدمت کیا ہے جس سے تجھے کو پاؤں محبت ہے کہ جس سے کھینچا جاؤں خدائی ہے خودی جس سے جلاؤں محبت چیز کیا کس کو بتاؤں