اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 47
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۷ خطاب ۲۶ جولائی ۱۹۸۶ء اُن کو وہ باتیں نہیں دیں۔بڑی لمبی جد و جہد سے عورتیں گزری ہیں۔بڑے مظالم اور دکھوں کے زمانے سے نکل کر آئی ہیں تب جا کر رفتہ رفتہ خود عورتوں کی کوششوں کے نتیجہ میں یہ حقوق ان کو ملنے شروع ہوئے جو چھین کر لئے ہیں انہوں نے۔مرد کے گھر میں رہنے کا حق حاصل نہیں تھا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر خاوند اپنی بیوی کو رکھتا ہے گھر میں تو اس کے رحم و کرم پر ہے۔جس دن چاہے کان پکڑ کر نکال دے۔اس کو ذاتی حق کوئی نہیں ہے کہ وہ اپنے خاوند کے گھر میں رہ سکے۔۱۹۷۵ء سے پہلے عورتیں اپنے نام پر سٹیٹ پینشن بھی وصول نہیں کر سکتی تھیں اور ۱۹۷۶ء کے Domestic Violence Act سے پہلے عورتیں اپنے خاوند کے مظالم کی شکایت قانونی طور پر کر ہی نہیں سکتی تھیں یعنی گھر میں خواہ کسی قسم کا ظلم روا رکھا جائے انگلستان میں چھہتر تک بھی عورت کو یہ قانونی حق حاصل نہیں تھا کہ وہ عدالت میں چارہ جوئی کی درخواست کرے اور یہ تمام حقوق یک قلم حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ پر نازل ہونے والے دین نے عورت کو چودہ سو سال پہلے دیئے بلکہ ان سے بڑھ کر دیئے۔آج بھی یورپ میں عورت ورثہ نہیں پاتی اور اسلام نے عورت کو اس زمانہ میں جب کہ وہ میراث تھی، وارث قرار دے دیا۔بجائے اس کے کہ وہ ورثہ ہو، اسے ورثے کا حقدار قرار دے دیا۔یورپ کے چند دلچسپ مقالے اب آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جو مختلف کتب سے لئے ہیں۔ان میں سے ایک دلچسپ کتاب ہے Benham's book of quotations بائیبل اس کو کہتے ہیں۔یہ book of quotations ہے اصل میں اس میں Biblical quotations بھی ہیں اور بعض دوسری quotations بھی ہیں۔اسی طرح Great quotations ہیں۔مختلف کتب ہیں جن سے میں نے یہ محاورے آپ کے لئے چنے ہیں آج۔یعنی کل تک یورپ کا تصور عورت کے متعلق کیا تھا، وہ ان کے فلسفیوں اور ان کے ادیبوں کی زبان سے 66 سینے۔دنیا میں ہر جھگڑے کی بنیا د عورت ہے۔عورت کو مذہبی امور میں دخل اندازی نہ کرنے دو اس کے لئے بائیل کا حوالہ دیا گیا ہے۔تین چیزیں ایسی ہیں جنہیں جتنا زیادہ مارا جائے ان کے لئے بہتر ہوتا ہے۔عورت، کتا اور ” walnut tree ( یعنی اخروٹ کا درخت ) عورت کو صرف تین بار گھر سے باہر نکلنا چاہئے۔ایک دفعہ جب اس کی christening ہوتی ہے پھر اُس کا نام رکھا جاتا ہے مذہبی ایک روایت کے مطابق دوسری بار جب اس کی شادی ہوتی ہے اور تیسری بار