اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 46 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 46

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۶ خطاب ۲۶ جولائی ۱۹۸۶ء تھیں کیونکہ اس زمانہ میں عورت کو علمی کام کرنا ایک جرم تصور کیا جاتا تھا۔☆ ☆ اب تاریخ وار میں آپ کے سامنے ایک خاکہ پیش کرتا ہوں۔۱۸۵۷ء سے پہلے عورتوں کو قانونی طور پر طلاق لینے کا کوئی حق نہیں تھا۔۱۸۶۶ء میں پہلی دفعہ کیمبرج کے Examination Board نے لڑکیوں کو امتحان دینے کی اجازت دی۔(۱۸۶۶ کی بات ہے یہ ) ۱۸۸۲ء میں پہلی مرتبہ یورپ میں عورت کو اپنے نام پر جائید اور کھنے کا حق حاصل ہوا۔۱۸۹۰ء تک عورتوں کا اپنے خاوند کی جائیداد پرکسی قسم کا کوئی حق حاصل نہیں تھا۔یہ تو گزشتہ صدی کی باتیں ہیں۔اب اس صدی میں آئے :- ۱۹۲۰ء سے پہلے آکسفورڈ یونیورسٹی میں کوئی عورت داخلہ ہی نہیں لے سکتی تھی۔۱۹۳۷ء سے پہلے تک انگلستان میں عورت مرد سے طلاق لینے کا حق نہیں رکھتی تھی۔۱۹۴۴ء سے پہلے عورتوں کو شادی کے بعد تعلیمی پروفیشن سے قانو ن خارج کر دیا جا تا تھا ، یعنی عورت کو شادی کے بعد کسی تعلیمی پروفیشن سے تعلق رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔۱۹۴۸ء سے پہلے کیمبرج یو نیورسٹی میں کوئی عورت ڈگری حاصل نہیں کر سکتی تھی۔۱۹۵۳ء سے پہلے ( یعنی کل کی بات ہے جب فساد پاکستان میں احمدیوں کے خلاف ہو رہے تھے ) وومن ٹیچر کی تنخواہ اگر چہ مضمون ایک ہی پڑھاتی ہو ، اور ایک ہی جیسا وقت دیتی ہو، مر داستاد سے بہت کم تھی۔۱۹۵۵ء سے پہلے سول سروس میں ایک ہی جیسے عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود عورت کی تنخواہ مرد کی تنخواہ سے کم تھی۔۱۹۶۷ء کے Matrimonial Homes Act سے پہلے قانونی طور پر عورت کو مرد کے گھر میں رہنے کا حق حاصل نہیں تھا۔یعنی اگر یہ ۱۹۶۷ء کی بات ہے ، آپ تصور کریں ذرا، یہ جو آزادی کی باتیں کرنے والی مغربی دنیا ہے، کل تک ان کا اپنا حال کیا تھا؟۔اسلام نے جو آزادیاں عورت کو چودہ سو سال پہلے دی تھیں، جو حقوق دیئے تھے وہ ۱۹۶۷ء تک بھی عورت کو یہاں نہیں ملے تھے۔اور کئی ایسے ہیں جو آج تک نہیں مل سکے اس لئے کہ اسلام نے