اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 502
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۵۰۲ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء کرنے والوں سے محبت ہے۔تو اگر خدا سے محبت نہ کی تو یہ ساری محبتیں اس دنیا میں ضائع ہو جائیں گی کیونکہ مرنے کے بعد وہ صرف ایک ہی رہ جائے گا۔اُسی سے ربوبیت وابستہ ہو جائے گی۔پھر رحمن اور رحیم کا مضمون ہے جو لا متناہی مضمون ہے۔میں پہلے بھی اس پر روشنی ڈال چکا ہوں رحمت ایک ایسی چیز ہے جس کے نتیجے میں انسان کو محبت ہوتی ہے۔ربوبیت ایک چیز ہے جس سے محبت پیدا ہوتی ہے۔دوسرے رحمانیت ہے۔اگر ایک رب تو ہو مگر رحمان نہ ہو تو آپ کو اس سے بھی محبت نہیں ہو سکتی۔کوئی مالک ہو جس کے ہاں آپ نوکر ہوں۔اس کی خدمت کریں اور اس کے بدلے وہ پیسے بھی بہت دے۔مگر اگر بدتمیز ہے اور بد خلق ہے تو ساری عمر بھی آپ اس کی نوکری کر کے رزق حاصل کریں آپ کو اس سے محبت نہیں ہو سکتی۔بلکہ دل میں نفرت ہی بڑھتی رہے گی اور یہی حال ماں باپ کا بھی ہے۔رب تو ہیں ان معنوں میں کہ وہ اپنے بچوں کو پالتے ہیں مگر جہاں بداخلاق ہوں وہاں بچے ان سے محبت نہیں کر سکتے۔اسی لئے میں احمدی ماؤں پر زور دیتا ہوں کہ بچوں کے لئے اپنے دلوں میں نہ صرف محبت پیدا کریں بلکہ ان کے دلوں میں اپنے لئے محبت پیدا کرنے کی کوشش کر یں۔اگر ان کے دلوں میں آپ کی محبت پیدا نہ ہوئی تو وہ آپ کے ہاتھ سے نکل جائیں گے اور بالآخر دین کے ہاتھ سے بھی نکل جائیں گے۔مگر اس مضمون کا تعلق رحمانیت سے ہے۔جیسا کہ میں نے ابھی آپ کے سامنے رکھا کہ الحمد لله ربّ العالمين الرحمن الرحیم۔خدارت بھی ہے اور رحمن بھی ہے۔وہ انفارم کرنے والا ہے کہ اس نے آپ کے تمام ان تقاضوں کو پورا فرمایا جن تقاضوں پر آپ کی نظر بھی کوئی نہیں تھی۔بار بار ہم گناہ کرتے ہیں، بار بار ہم خدا سے غافل ہوتے ہیں، بار بار غلطیاں کرتے ہیں۔اس کی رحمانیت ہے جو ہماری غلطیوں پر پردے ڈال دیتی ہے اور چشم پوشی فرماتی ہے۔پس رحمانیت کا تعلق بھی محبت ہی سے ہے اور اگر رحمانیت نہ ہو تو ربوبیت بھی محبت پیدا نہیں کر سکتی۔پس وہ انسان جو رب تو ہو اور رحمن نہ ہو۔اس سے بھی پیار نہیں ہوسکتا۔پھر رحیمیت وہ چیز ہے جو بار بار رحم کو لے کر آتی ہے۔اس کا رحم چھوڑتا ہی نہیں ہے۔ہر مشکل کے وقت پھر وہی کام آتا ہے۔پھر اُسی کو آپ آواز میں دیتی ہیں اور باوجود اس کے کہ آپ نے اس سے بے وفائی کی ہو پھر بھی وہ اپنا فضل لے کر آجاتا ہے۔یہ بار بار آنے والا رحم رحیمیت سے تعلق رکھتا ہے۔اور پھر مالک بھی ہے ہر چیز اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔جب چاہے اپنی دی ہوئی چیزیں واپس لے سکتا ہے کیونکہ وہ مالک ہے۔پس اس پہلو سے اگر آپ خدا کی ہستی پر غور کریں گی تو آپ کو