اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 501
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۵۰۱ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء کر رہی ہوں ، خدا سے لذتیں حاصل کر رہی ہوں، خدا سب کچھ دینے والا ہو، جب تک وہ چیزیں موجود ہوں خدا کا خیال تک دل میں نہ آئے یہ ایمان بالغیب نہیں بلکہ خدا کو غائب کرنے والی بات ہے۔اس بات کو سمجھ لیں کہ آپ کی زندگی سے خدا غائب رہتا ہے۔اس کو ایمان بالغیب نہیں کہتے۔غائب ہونے کے باوجود آپ کو معروف موجودات میں سے سب سے زیادہ موجود وہ ہے اس کا نام ایمان بالغیب ہے اور یہ بھی ممکن ہے اگر جب آپ غور کرنے کی عادت ڈالیں۔صبح اٹھتی ہیں تو آپ کی آنکھ کھلتی ہے۔آپ کو کیوں خیال نہیں آتا کہ اسی نیند کی حالت میں آپ مر بھی سکتی تھیں اللہ ہی ہے جس نے آپکو دوبارہ زندہ کیا۔ہر سانس جو آپ لیتی ہیں یا ہم لیتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کا مظہر بن کر آتا ہے۔ہر چیز جو ہمیں اچھی لگتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اگر وہ چیز خدا تعالیٰ کی عطا کے بغیر ہو تو وہی چیز جو ا چھی لگتی ہے اس سے نفرت بھی ہو سکتی ہے۔صحت کے بغیر کوئی چیز اچھی نہیں لگ سکتی۔جتنی مرضی اچھی چیزیں آپ کے گر داکٹھی ہو جا ئیں اگر آپ بیماری کی وجہ سے زندگی کی لذتیں ہی کھو بیٹھیں۔ایک درد کے عذاب میں مبتلا ہوں۔اس وقت لاکھ آپ کے سامنے اچھی سے اچھی چیزیں پیش کی جائیں۔آپ نفرت کے ساتھ ان کو رد کرتی چلی جائیں گی۔بلکہ ان کو پیش کیا جائے تو آپ کو اور بھی غصہ آئے گا۔جو وہ چیزیں پیش کرے گا اس سے بھی آپ نفرت کریں گی۔بعض دفعہ انسان ایسا بیزار ہو جاتا ہے کہ کسی کو بھی دیکھنا نہیں چاہتا۔کہتا ہے سب ہٹ جاؤ یہاں سے، کیونکہ میر امزاج نہیں ہے۔میرا دل نہیں ہے۔مجھے ہر چیز سے نفرت ہوگئی ہے۔تو اللہ تعالیٰ اگر اپنے احسانات کے لطف پیدا کرنے کے مواقع چھین لے تو لطف مہیا بھی ہوں تو لطف آنہیں سکتے۔وہ ذرائع موجود بھی ہوں تب بھی آپ ان کو محسوس نہیں کر سکتے ، ان کے لطف کو محسوس نہیں کر سکتے۔پس رب العالمین کا تصور ہے جو خدا کا پہلا تعارف ہے جس کے بغیر آپ کا قدم خدا کی محبت میں آگے بڑھ نہیں سکتا۔پھر یہ نہیں فرمایا کہ صرف تمہارا رب ہے۔رب العالمین ہے۔سب جہانوں کا رب ہے۔تم سے پہلے جتنے بھی پیدا ہوئے جنہوں نے تمہیں پیدا کیا۔ان کا بھی وہی رب تھا۔تمہارے بعد جتنے آئیں گے ان کا بھی وہی رب ہوگا۔اس عالم کا بھی رب ہے اُس عالم کا بھی رب ہے۔یہاں جو کچھ تمہیں ملا اُس سے ملا اور مرنے کے بعد بھی جو کچھ ملے گا اُسی سے ملے گا۔اگر آپ کو رزق سے محبت ہے، اگر اپنے پالنے والے سے محبت ہے ، اگر ماں سے محبت ہے اگر دنیا کے دوسرے احسان