اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 45 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 45

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۴۵ خطاب ۲۶ ؍جولائی ۱۹۸۶ء تھا۔انگلستان کی کل عورتوں کی تعداد جس میں بچیاں بھی شامل ہیں ان کی ایک بٹا تین (۱/۳) عورت اپنے گھر کے علاوہ دوسرے کام کرنے پر مجبور تھی۔عورت کو عرب معاشرے کی طرح مرد کی جائیداد سمجھا جاتا تھا۔عورت کو گواہی دینے کا حق حاصل نہیں تھا۔آج یورپ شور مچارہا ہے کہ اسلام نے ایک مرد کے مقابل پر دو عورتوں کی گواہی مقرر کی اور بڑا بھاری ظلم ہے۔کل تک عورت کو یہاں گواہی دینے کا ہی حق حاصل نہیں تھا۔اور وہ مسئلہ الگ ہے، وہ موقع پر میں بیان کروں گا ، وہ بالکل غلط الزام ہے۔۱۸۹۱ ء تک یعنی ابھی صدیوں کے لحاظ سے کل کی بات ہے انگلینڈ، جرمنی ، ناروے، امریکہ، سکینڈے نیویا، وغیرہ میں عورتوں کو قانونا مرد کی جائیداد پر کسی قسم کا کوئی حق حاصل نہیں تھا۔عورت کو ووٹ دینے کا کوئی حق حاصل نہیں تھا۔انیسویں صدی تک فرانس میں خاوند اگر عورت کو طلاق دیتا تھا تو ماں کو بچوں پر کوئی حق نہیں تھا۔یہاں تک کہ بیوہ عورت کو بھی اپنے بچوں پر کوئی حق حاصل نہیں تھا۔خاوند کے مرنے کی صورت میں اس کے بچے خاوند کے رشتہ داروں کے سپر د کر دیئے جاتے تھے۔انیسویں صدی میں انگلستان اور فرانس میں عورتیں مردوں سے طلاق نہیں لے سکتی تھیں۔عورت کو تو بے حیائی کی پاداش میں، اگر اس پر مرد الزام لگائے شدید سزا دی جاتی تھی اور مرد کا یہ حق مسلم تھا کہ اگر چہ وہ ایک سے زیادہ شادیاں تو نہیں کر سکتا مگر ایک سے زیادہ عورتیں اپنے گھر میں بغیر شادی کے رکھ سکتا ہے۔اس کے نتیجہ میں اس کی کوئی سزا مقررنہیں تھی اور یہ تو اب بھی جاری ہے۔دوسری جنگ عظیم میں عورتوں سے نہایت سخت کام لئے گئے یہ کہہ کر کہ قومی ضرورت ہے اور اس کے پیش نظر عورتوں کا بھی فرض ہے کہ وہ قوم کی خدمت کریں لیکن جنگ کے معا بعد ان ساری عورتوں کو بغیر حقوق کے فارغ کر دیا گیا۔انیسویں صدی کے آخر تک حال یہ تھا کہ عورتوں کا فیکٹریوں وغیرہ میں کام کرنا تو مناسب خیال کیا جاتا تھا مگر تعلیمی کام کرنے کی اجازت نہیں تھی۔یہاں تک کہ بعض اس دور کی مصنفہ عورتیں مثلاً Marian Evans میری این ایونز (۱۸۸۰-۱۸۱۹) George Eliot ( جارج ایلیٹ ) کے نام پر مشہور ہوئی جو ایک مرد کا نام ہے۔اور اکثر انگریزی لٹریچر پڑھنے والے یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ عورت تھی اور باہر کی دنیا کے لوگ ، جارج ایلیٹ جس کو وہ مرد سمجھتے ہیں، وہ دراصل عورت تھی اس لئے وہ عورت کا نام ظاہر نہیں کر سکتی تھی کہ یہ کرنا اس کے لئے جرم تھا۔اسی طرح برانٹے سٹرز جو مشہور ہیں شارلٹ اور این اور غالبا ایک اور نام مجھے بھول گیا ہے۔بہر حال تین بہنیں مشہور ہیں ادب کی دنیا میں۔ایملی یہ تینوں شروع میں مردوں کے نام پر ناول لکھا کرتی