اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 467 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 467

۴۶۷ خطاب ۲۷ جولائی ۱۹۹۶ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات دیکھا ہے۔کوئی ایک بھی ایسی کیفیت نہیں جو دل پر طاری ہوتی ہو اور اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے رب کے احسان کے حوالے سے نہ دیکھا ہو اور محبت کا سب سے اعلیٰ طریق یہ ہے، یعنی محبت پیدا کرنے کا، یہ وہ شخص جو احسانوں تلے ڈوب چکا ہو اور ہر احسان کے دفعہ اس کو یہی۔۔۔۔کہ اس کے سوا اور کوئی ایسا نہیں جو یہ احسان کر سکتا۔اس کے سوا اور کوئی ایسا نہیں جو مجھے اس طرح پوچھتا مجھے اس طرح قدر کی نگاہ سے دیکھتا۔اگر احسان میں کوئی ذاتی وقت شامل ہو تو انسان سمجھتا ہے کہ میں عزت والا ہوں مجھے اس نے تحفہ دے دیا تو کیا مضائقہ ہے؟ مجھ میں بھی تو کوئی بات ہے۔اس پہلو سے لازم نہیں کہ محبت پیدا ہو ،لیکن ایک ایسا انسان جو اپنے میں کچھ ہی نہ دیکھے اور پھر بار بار احسان کی بارش ہونا دیکھے اس کے لئے تو ممکن ہی نہیں کہ وہ مرشد کی محبت میں مبتلا نہ ہو جائے پس تمام انبیاء جنہوں نے اللہ سے محبت کی ہے،اس بناء پر وہ اس محبت میں گرفتار ہوئے ہیں کہ انہوں نے اپنے نفس پر جب نگاہ ڈالی تو کچھ بھی اپنی ذات کا ایسا نہ پایا کہ جو خدا کے احسان سے باہر ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ مصرعہ مجھے بہت ہی پیارا لگتا ہے کبھی بھی میرے لئے پرانا نہیں ہوا کہ سب کچھ تیری عطا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے۔اے اللہ ! میں جب تیرے حضور عبادت کے لئے کھڑا ہوتا ہوں اور ذکر کرتا ہوں۔خدا نے مجھے معمور فرمایا! تمام دنیا کی تربیت کے لئے معمور ہوا۔یہ ساری باتیں ایسی ہیں جو تو نے عطا کی ہیں تو مجھے ملی ہیں ورنہ میں گھر سے تو کچھ بھی نہیں لایا۔پس وہ جو اپنے نفس کو کلیہ مٹا دیتا ہے اور حقیقت میں مٹائے بغیر انسان اپنے نفس کی حقیقت کو پا نہیں سکتا وہ جب دنیا کو دیکھتا ہے تو ایک نئی نظر کے سامنے دیکھتا ہے وہ اگر اللہ کے احسانوں پر نگاہ ڈالتا ہے تو ایک اور نگاہ ڈالتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ ہر حسن کا جو خدا کی طرف سے احسان کی صورت میں اس پر نازل ہو رہا ہے وہ مستحق نہیں ، ان میں سے کسی کا بھی مستحق نہیں محض اللہ تعالیٰ کی دین ہے اس کی عنایت ہے اور اس پہلو سے جب آپ غور فرماتے ہیں کائنات پر ، اپنے گردو پیش پر ، اپنے حالات پر ، اپنے بچوں پر ، اپنی بیوی پر۔خدا تعالیٰ کی تمام نعمتوں پر جو اس نے عطا فرما ئیں تو احسان ہی احسان دیکھتے ہیں۔احسان میں ایسے گھرے ہوئے ہیں کہ جیسے سمندر میں ایک ذرہ ڈوب جائے اور تمام تر سمندرا سے ہر طرف سے محیط کرلے محیط پر محیط ہو جائے۔یہ وہ طریق ہے جس سے آپ اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کر سکتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے بغیر نہ آپ بچی ماں بن سکتیں اور نہ آپ کی بیٹیاں خدا تعالیٰ کی راہ میں ثابت قدم رہ سکتی ہیں کیونکہ وہ شخص جس کو کسی سے محبت ہو جائے وہ نگاہ رکھتا ہے کہ اس کی مرضی کے خلاف بات