اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 462 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 462

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۴۶۲ خطاب ۲۷ جولائی ۱۹۹۶ء ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سبحان من یرانی “ پر جس کی تان ٹوٹتی ہے یہ تان وہاں پہنچ کر پھر ایک نئے مضمون میں داخل ہوتی ہے تو اچانک میرے سامنے گویا ایک معمہ حل ہوکر اُبھر آیا ہر بات روشن ہوگئی اور یہ بات میں حیران تھا کہ پہلے مجھے کیوں نہیں سوجھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام محبت کے حوالے سے تربیت کرتے ہیں اور اس وقت مجھے یہ راز سمجھ آیا کہ ہر نبی محبت کی بناء پر نبی بنتا ہے۔بنی نوع انسان کی خرابیوں کی نفرت کی بناء پر کبھی کوئی نبی نہیں بنا وہ تو ان لوگوں کی بدیوں میں رہتے ہوئے اپنی ذات میں سمٹ جاتا ہے اور ایک علیحدگی اختیار کر لیتا ہے۔مگر جب میں نے غور کیا تو مجھے معلوم ہوا وہ بات جو پہلے بھی معلوم ہونی چاہئے تھی مگر وہ ایک واضح حقیقت روشن دن کی طرح سامنے اُبھری کہ کبھی کسی نبی نے نبی بننے سے پہلے معاشرے کو طعن تشنیع نہیں کیا۔اگر وہ طعن و تشنیع سے کام لیتا تو اتنا ہر دل عزیز کیوں ہوتا ؟ وہ اپنے دکھ اپنے دل میں سمیٹتا رہا ہے اور خدا کی طرف متوجہ ہوتا رہا ہے اور یہ اس کا دردتھا جو محبت الہی کے اثر سے وہ مقبول دعا بن گیا جس کے نتیجے میں اس قوم کی تقدیر کے بدلنے کا فیصلہ کیا گیا اور یہی وہ محبت بھری دعا تھی جس کے ذریعہ سے خدا نے اس کو چنا اور وہ سب سے زیادہ مستحق ٹھہرا کہ اس قوم کے حالات کو تبدیل کرے، اس گندے معاشرے کو صاف کرے۔پس یہ وہ مضامین تھے جو شعروں کے ساتھ ساتھ میرے ذہن میں اُبھرتے رہے، میرے دل میں جانشین ہوتے چلے گئے اور اس وقت مجھے بھی یہی سمجھ آئی کہ عورتوں کے لئے تو محبت سے بہتر کوئی اور علاج نہیں ہے۔مرد بھی محبت کرتے ہیں، عورتیں بھی محبت کرتی ہیں مگر ماں کے رشتے سے اور بہن بھائیوں کے تعلق کے لحاظ سے، جیسا محبت کا سلیقہ عورت کو ہے اور جیسی وفاعورت کو نصیب ہے ویسی مردوں میں نہیں اور یہ فطری تقاضوں کے فرق ہیں۔اگر عورت کو خدا تعالیٰ محبت کے معاملے میں ایک فوقیت نہ بخشتا تو اپنی اولا د کو وہ سنبھال نہیں سکتی۔اتنے لمبے عرصے وہ دکھوں کے دور میں سے گزرتی ہے اور پھر دکھ اور تکلیف کے ساتھ بچہ پیدا کرتی ہے یہ مسئلہ بھی حل ہوا کہ آخر کیوں ایسا ہوتا ہے جو چیز دکھوں اور تکلیفوں سے حاصل ہو اس سے زیادہ محبت ہوتی ہے۔جو محنت سے کمایا ہوا مال ہے وہ پیارا لگتا ہے۔جو ورثے میں پالیتا ہے انسان اسے تو جس طرح جس آسانی سے پایا اسی آسانی سے اُڑا کر ضائع کر دیا کرتا ہے۔تو بہت سی حکمتیں ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائشیں جو بظاہر ہم بری سمجھتے ہیں ان میں بھی گہرے راز ہیں۔پس یہ خیالات کی رو جو چلتی رہی اس کے نتیجے میں میں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ جب تک خدا