اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 36 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 36

حضرت خلیفہ امسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۶ خطاب ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۳ء ایک مرتبہ حضرت صفیہ کے اوپر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے ایک طنز کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں چھنگلی چھوٹی انگلی اٹھائی اور اشارہ کیا حضرت صفیہ کے متعلق کیونکہ ان کا قد بہت چھوٹا تھا۔تو انہوں نے انگلی اُٹھا کر کہ وہ بیوی جو اس انگلی کے برابر ہے۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد تکلیف پہنچی اور آپ نے جواب میں یہ فقرہ فرمایا کہ اے عائشہ! تو نے ایک بہت چھوٹی سی بات کی ہے لیکن اُس بات میں طاقت اتنی ہے اگر وہ سمندر میں گھول دی جائے تو سارے سمندر کو کڑوا کر سکتی ہے۔کتنا حیرت انگیز، کتنا فصیح و بلیغ جواب ہے۔چھوٹی سی انگلی کہہ کر تم نے اپنی طرف سے ایک چھوٹی سے بات کی ہے لیکن کڑواہٹ اتنی ہے خدا کی نظر میں وہ اتنی بُری بات ہے کہ گویا سارے سمندر کے پانی کا رنگ بدل سکتی ہے اور اس کا مزہ بدل سکتی ہے۔آخری بیماری میں جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد تمام بیویاں جمع تھیں تو یہی وہ صفیہ ہیں جنہوں نے بے اختیار ہو کر یہ عرض کیا یا رسول اللہ ! میں خدا کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ آج میری دلی تمنا اور تڑپ یہ ہے کاش آپ کی بیماری مجھے لگ جائے اور میں آپ کی جگہ اس دنیا سے رخصت ہوں۔اس پر تمام ازواج مطہرات نے آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارے شروع کئے گویا یہ اظہار تھا کہ دیکھو کیسی مصنوعی باتیں کرتی ہے۔کس طرح باتوں کے ذریعے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا دل جیتنے کی کوشش کر رہی ہے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ نظر ڈالی تو آپ سمجھ گئے اور فرمایا خدا کی قسم صفیہ اپنے دعوے میں سچی ہے۔آخری گواہی جو کسی بیوی کے تعلق میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی وہ یہ صفیہ کے متعلق تھی۔غرضیکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات پر آپ نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا ایک جنت تھی معاشرے کی جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی نازل ہوئی اور گھروں کی اس نے کایا پلٹ دی تھی، رہن سہن کے اطوار بدل ڈالے تھے، ایک انقلاب بر پا ہورہا تھا عرب کی دنیا میں اور جس انقلاب نے جاری ہو کر ساری دنیا کو پھر جنت بنانا تھا۔ایک لمبے عرصے تک اس جنت کی حفاظت کی گئی مسلمان معاشرے میں وراثتا ایک کے بعد دوسرے گھر میں یہ جنت منتقل ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ بدقسمتی سے وہ دور آیا کہ وہ جنت پھر ہاتھ سے ضائع ہو گئی۔آج کی دنیا میں وہ تمام اسلام کے دشمن جو طرح طرح کے الزامات کا نشانہ بناتے ہیں اسلام کی تعلیم کوبھی اورمحمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اُسوہ کو بھی کہ اسلام میں عورت کا کوئی مقام نہیں ہے،اسلام کے گھروں کی زندگی دکھوں اور