اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 35 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 35

حضرت خلیفہ المسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۵ خطاب ۲۷ دسمبر ۱۹۸۳ء کے دوران کھانا تحفتہ بھجوایا گیا۔حضرت عائشہ کو غیرت آئی اور جو لونڈی یا غلام کھانا لے کر آئے تھے ہاتھ مار کر برتن کو گرا دیا اور وہ برتن ٹوٹ گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس واقعہ کا بہت دُکھ پہنچا۔آپ نے خود اپنے ہاتھوں سے اس ٹوٹے ہوئے برتن کو اکٹھا کر کے جوڑا اور پھر حضرت عائشہؓ سے فرمایا اس کے ساتھ کا برتن تمہارے گھر ہے تو لاؤ چنا نچہ وہ برتن لایا گیا اور ٹوٹا ہوا برتن حضرت عائشہ کے سپر د کر دیا اور جو صحیح سالم برتن تھا وہ حضرت صفیہ کو واپس کیا گیا۔( بخاری کتاب المظالم ) ایک مرتبہ سفر میں حضرت صفیہ کا اونٹ بیٹھ گیا اور وہ سب سے پیچھے رہ گئیں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا گزر ہوا تو دیکھا زارو قطار رو رہی ہیں۔آپ نے رداء مبارک اور دست مبارک سے خود اُن کے آنسو پونچھے۔آپ ان کے آنسو پونچھتے جاتے تھے اور وہ روتی جاتی تھیں۔ایک اور روایت ہے کہ ایک سفر کے دوران حضرت صفیہ کا اونٹ بیمار پڑ گیا۔حضرت زنیب بنت جحش کے پاس زائد اونٹ تھا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ دیکھوصفیہ کا اونٹ بیمار ہو گیا ہے کیا ہی اچھا ہو کہ تم اس کو اونٹ دے دو۔اس پر حضرت زنیب نے کہا کہ میں اس یہودیہ کو اونٹ کیوں دوں کیونکہ وہ یہودی الاصل تھی اس لئے رقابت میں بعض دفعہ دوسری ازواج یہ طعنہ دے دیا کرتی تھیں۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اتنا دکھ ہوا کہ دو تین ماہ تک پھر حضرت زینب کے حجرے میں نہ گئے۔اور وہ کہتی ہیں کہ یہاں تک کہ میں غم سے نڈھال ہو کر مایوس ہو چکی تھی اور میں سمجھتی تھی کہ اب کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ نہ دیکھ سکوں گی۔ایک دفعہ حضرت صفیہ اور ہی تھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے متعلق بعض دوسری ازواج نے بڑی دل دکھانے والی باتیں کی ہیں۔کیا باتیں تھیں ؟ وہ باتیں یہ تھیں حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت عائشہ غالبا حضرت حفصہ تھیں۔انہوں نے یہ طعنہ دیا تھا کہ تم یہودیہ ہو یہود کی بیٹی ہواور ہم ہیں خاندان نبوی سے، تمہارا ہمارے ساتھ کیا مقابلہ۔ہم تو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان ہی سے ہیں۔اور پھر آپ کے عقد میں بھی آگئی ہیں۔تو تمہارا ہمارا کوئی جوڑ نہیں برابری نہیں ہوسکتی۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صفیہ تم نے یہ جواب کیوں نہ دے دیا کہ دیکھو میرا خاوند محمد ہے میرا باپ ہارون تھا اور میرا چپا موسیٰ تھا وہ کون سی بات ہے جو تمہیں مجھ سے افضل بنا رہی ہے۔چونکہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کی نسل سے تھیں اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دلداری بھی فرما دی اور یہ جواب سکھایا۔