اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 34 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 34

حضرت خلیفہ امسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۴ خطاب ۲۷ دسمبر ۱۹۸۳ء آپ کے سجدے اتنے لمبے تھے کہ مجھے یوں لگتا تھا کہ میری نکسیر پھوٹ جائے گی اس لئے میں دیر تک۔ناک پکڑے کھڑی رہی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ نے یہ بتایا تو آپ مسکرا دیئے۔آپ کی ازواج مطہرات میں سے ایک حضرت صفیہ بھی تھیں۔جو یہودی الاصل تھیں۔حضرت صفیہ کے ساتھ آپ کی شادی کا واقعہ بھی بڑا عجیب ہے۔جب خیبر فتح ہوا تو دستور کے مطابق جب خیبر کے مردزیر کر لئے گئے اور قتل ہوئے تو جو عور تیں ہاتھ آئیں جنگی قیدیوں کے طور پر اُن کو بھی تقسیم کیا گیا اُس رواج کے مطابق۔اور مختلف مسلمان خاندانوں کے سپرد کی گئیں۔اُن میں حیی بن اخطب قبیلے کے سردار کی بیٹی صفیہ بھی تھیں جو سردار اُس دن قتل ہوا ہے۔اس پر کسی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ غلطی سے صفیہ کو کسی عام آدمی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔وہ سردار کی بیٹی تھی اس لئے سردار کے گھر ہی اس کو آنا چاہئے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو تسلیم فرمالیا اور اسی دن حضرت صفیہ آپ کی زوجہ مطہرہ بنے کا شرف حاصل کر گئی۔اتنی خوفناک وہ لڑائی تھی اور اتنی شدید نفرتیں تھیں یہود کو مسلمانوں سے کہ اس واقعہ پر بعض صحابہ بیقرار اور بے چین ہو گئے کہ صفیہ جس کا باپ آج قتل ہوا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی بدا رادہ نہ رکھتی ہو۔چنانچہ اس رات حضرت ابوایوب سنگی تلوار لے کر ساری رات خیمے کے باہر کھڑے رہے کہ ذرا کوئی مشتبہ آواز آئے تو میں دوڑ کر جاکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کروں۔صبح آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ تم کیوں کھڑے تھے رات بھر میرے دروازے پر تو اُس وقت انہوں نے بتایا۔لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو سلوک تھا اور آپ کے اندر جو بے پناہ قوت جاذ بہ پائی جاتی تھی اس کے نتیجے میں ایک ہی رات میں صفیہ کی کایا پلٹ گئی۔اور اتنا گہرا عشق حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ہو گیا کہ پھر کبھی کسی پرانے کا خیال آپ کے دل میں نہیں آیا۔اسی سفر میں جب ایک صحابی روایت بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اونٹ کے پیچھے اپنی عبا کو پھیلا دیتے تھے اس پر حضرت صفیہ کو بٹھاتے تھے اور جب چڑھانا ہوتا تھا سواری پر تو اپنا گھٹنا قدم رکھنے کے لئے پیش کیا کرتے تھے اور حضرت صفیہ اس گھٹنے پر پاؤں رکھ کر پھر او پر بیٹھتی تھیں۔( بخاری کتاب المغازی باب غزوہ خیبر ) حضرت صفیہ کے متعلق حضرت عائشہؓ کی روایت یہ ہے کہ کھانا اتنا اچھا پکاتی تھیں کہ میں نے کبھی ایسا اچھا پکانے والی نہیں دیکھی۔ایک مرتبہ حضرت صفیہ کی طرف سے حضرت عائشہ کی باری